Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
47 - 412
     میں اچھی طرح سمجھ گیا کہ مجھے کس جرم کی سزامل رہی ہے ۔وہ شخص مجھے اپنا غلام سمجھ کر اپنی دکان پر لے گیا۔ وہاں اس کے اوربھی غلام موجود تھے جو کپڑے بنتے تھے ۔ مجھے دیکھ کر دوسرے غلام کہنے لگے :اے بُرے غلام! تو اپنے آقا سے بھاگتا ہے۔؟ چل، یہاں آ،اوراپنا وہ کام کر جو تو کیا کرتاتھا۔'' پھر مالک نے مجھے حکم دیا کہ جاؤ اور فلاں کپڑا بُنو۔جیسے ہی میں کپڑا بننے لگا تو ایسا محسوس ہوا جیسے میں بہت ماہر کاری گرہوں اورکئی سالوں سے یہ کام کررہاہوں۔ چنانچہ میں دوسرے غلاموں کے ساتھ مل کر کام کرنے لگا ۔ وہاں کام کرتے ہوئے جب کئی مہینے گزر گئے تو ایک رات میں نے خوب نوافل پڑھے اورساری رات عبادت میں گزاردی پھر سجدے میں جاکر یہ دعا کی:'' اے میرے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ!مجھے معاف فرمادے اب کبھی بھی اپنے عہد سے نہ پھروں گا ۔ اسی طرح دعا کرتارہا، جب صبح ہوئی تو دیکھا کہ میں اپنی اصلی صورت میں آچکا تھا۔پھر مجھے چھوڑدیا گیا۔ بس اس طرح میرا نام'' خیرُ النساج'' پڑگیا۔'' 

    (سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! ہمارے اسلاف رحمہم اللہ تعالیٰ کیسے کیسے مجاہدات کیا کرتے تھے۔ وہ حرام غذا سے تو ہر دم بچتے ہی تھے۔ ساتھ ساتھ حلال چیزیں بھی رضائے الہٰی کے لئے ترک کردیا کرتے ، نفسانی خواہشات کی ہرگز اتباع نہ کرتے۔ ہر کام میں حکمِ خدا عَزَّوَجَلَّ کو پیشِ نظر رکھتے۔ پیٹ کا بلکہ، ہر ہر عضو کا قفلِ مدینہ لگاتے۔

     الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ دعوت اسلامی کا مشکبا رمدنی ماحول ہمیں بزرگان دین رحمہم اللہ المبین کی یاد دلاتا ہے ۔اس ماحول میں آ کر ہر ہر عضو کا قفلِ مدینہ لگانے کا ذہن بنتا ہے۔ دعوتِ اسلامی کی اصطلاح میں ''اپنے پیٹ کو حرام غذا سے بچانا اور حلال خوراک بھی بھوک سے کم کھانا پیٹ کا ''قفلِ مدینہ'' کہلاتا ہے۔)

           ؎ یا الٰہی پیٹ کا قفلِ مدینہ کر عطا		از پئے غوث و رضا کر بھوک کا گوہر عطا
حکایت نمبر231:             باکرامت نوجوان بزرگ
    حضرتِ سیِّدُنامحمد بن داؤددِیْنَوَرِی علیہ رحمۃ اللہ الجلی کہتے ہیں:''میں نے حضرت سیِّدُنا ابوبَکْر مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی کو فرماتے ہوئے سنا:''کہ ایک مرتبہ جب میں ''عسویہ''سے ''رملہ''کی طرف جارہا تھا تو راستے میں ایک ایسا شخص ملا جو ننگے پاؤں ، ننگے سرتھا۔ اس کے پاس دو چادریں تھیں ایک کا تہبند باندھا ہوا تھا اورایک کندھوں تک اوڑھی ہوئی تھی۔ موسمِ گرما عروج پر تھا میں اس شخص کو دیکھ کر بہت حیران تھا کہ اس قدر گرمی میں اس کی یہ حالت! اس کے پاس نہ تو زادِ راہ تھا اورنہ ہی کوئی ایسا برتن یا
Flag Counter