Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
46 - 412
آواز حضرتِ سیِّدُنا خزرج بن علی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے سن لی۔ انہوں نے پوچھا: ''یہ کیا معاملہ ہے؟''میں نے انہیں بتایا:'' ان دنوں میں ریاضت کررہاہوں اور افطار کے وقت صرف باقلاء کی چند پھلیاں کھا لیتا ہوں۔''

    انہوں نے روتے ہوئے فرمایا:''اے ابو عبداللہ! اپنے اس فعل پر ثابت قدم رہنا۔پہلے میں بھی تمہاری طرح ریاضت کیا کرتا تھا ۔ایک رات اپنے دوستوں کے ساتھ کسی دعوت پر بغدادگیا۔وہاں ہماری ضیافت میں اونٹ کابھنا ہواگوشت پیش کیا گیا۔ سب کھانے لگے لیکن میں نے اپنا ہاتھ روکے رکھا۔ جب میرے دوستوں نے دیکھا تو کہا: تم کیوں نہیں کھاتے ؟بلا تکلف کھاؤ۔ میں نے ان کے اصرار پر ایک لقمہ کھالیا۔اس کے بعد سے میں ایسا محسوس کرتاہوں جیسے چالیس سال پیچھے چلا گیاہوں۔'' ابنِ خفیف علیہ رحمۃ اللہ اللطیف فرماتے ہیں :'' پھر حضرتِ سیِّدُنا خزرج بن علی علیہ رحمۃ اللہ القوی باہر تشریف لے گئے اورایک دیہات میں جاکر پرانے سے مکان میں رہائش اختیار کرلی اورپورے گھرکو اندر اورباہر سے سیاہ کردیا ۔اور فرمایا: ''مصیبت زدوں کی رہائش گاہیں ایسی ہی ہوتی ہیں ، پھراسی مکان میں اپنی ساری زندگی گزاردی اوریہیں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہوا۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر230:                 انوکھی سزا
    حضرتِ سیِّدُناجَعْفَرخُلْدِی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ ''حضر تِ سیِّدُنا خَیْرُالنَّسّاج علیہ رحمۃ اللہ الرزّاق سے پوچھا گیا: ''آپ خیرُالنساج کے نام سے کیوں مشہورہیں ؟کیا نساج (یعنی کپڑابننا)آپ کا پیشہ رہا ہے؟''انہوں نے نفی میں سرہلادیا۔میں نے پوچھا: ''پھر یہ نام کیسے پڑا؟'' فرمایا: ''میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد کررکھا تھا کہ کبھی بھی نفس کی خواہش پرتازہ کھجور نہیں کھاؤں گا۔ کافی عرصہ میں اپنے عہد پر قائم رہا۔ ایک مرتبہ نفس کے ہاتھوں مجبور ہوکر میں نے کچھ کھجوریں خریدیں اورکھانے کے لئے بیٹھ گیا، ابھی ایک ہی کھجور کھائی تھی کہ ایک شخص میری طرف بڑی کڑی نگاہوں سے دیکھنے لگا ۔ پھر میرے پاس آیا اورکہا: اے خیر! تُو تو میرا بھاگا ہوا غلام ہے ۔'' میں بہت حیران ہوا کہ آخر یہ کیا معاملہ ہے ۔پھر مجھے سمجھ آگیا کہ اس شخص کا ایک غلام تھا جوبھاگ گیا تھا اوراس کے شبہ میں یہ مجھے اپنا غلام خیال کر رہا ہے اورواقعتا میری رنگت اس غلام جیسی ہوگئی تھی ۔ وہ شخص زور زور سے کہہ رہا تھا کہ تُو تو میرا بھاگا ہوا غلام ہے ۔شور سن کر بہت سارے لوگ جمع ہوگئے ۔جیسے ہی انہوں نے مجھے دیکھا تو بیک زبان بولے:'' واللہ(اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم)!یہ تو تیرا غلام'' خیر'' ہے ۔''
Flag Counter