والے ہوکرواپس لوٹ جاؤ۔''راہب کی یہ حکیمانہ باتیں سن کروہ تینوں سردارواپس چلے آئے ۔پھرباہم مشورے سے ایک کوملک کاحاکم بنایااورسب اس پرراضی ہوگئے ۔
(اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے مقبول بندوں پررحمت کی خوب برسات فرمائے اورہم سب کی مغفرت فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس عبرت آموزحکایت سے ہمیں یہ درس ملاکہ انسان کوہمیشہ اپنے انجام پرنظررکھنی چاہے ، آنے والے وقت سے پہلے تیاری کرلینی چاہے ۔سمجھ داروہی ہے جوموت سے پہلے موت کی تیاری کرلے اوراس فانی زندگی میں رہ کر ایسے اعمال کرے کہ جن کی بدولت دائمی زندگی میں خوب نعمتیں ملیں۔طویل اُمیدوں کے دھوکے میں آکراعمالِ صالحہ کومُؤَ خَّر (مُ۔أخ۔خَر) یاترک کردیناہرگزعقل مندوں کاشیوہ نہیں۔انسان کوچاہے کہ آج کاکام کل پرنہ چھوڑے ،نیکی کے کام میں ہرگز سستی نہ کرے اوراپنے آپ کوآخرت کی بہتری کے لئے مصروف رکھے ۔ان تمام باتوں پرعمل پیراہونے کے لئے انسان کوایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں فکرِ آخرت اوراعمالِ صالحہ کی خوب ترغیب دلائی جاتی ہو۔الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ !آج کے اس پرفتن دورمیں تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیرغیرسیاسی تحریک''دعوتِ اسلا می ' ' ہمیں ا یساپاکیزہ اورسنتوں بھراماحول فراہم کرتی ہے کہ اس میں آکردل خودبخوداعمالِ صالحہ کی طرف راغب ہوتااورگناہوں سے نفرت کرنے لگتاہے۔اس پاکیزہ ماحول میں خوفِ خدااورعشقِ مصطفی کی عظیم نعمتیں نصیب ہوتی ہیں۔عمل کاجذبہ بڑھتا اور بدعملی سے نفرت پیداہوجاتی ہے ۔ہمیں چاہے کہ ہم بھی اس مدنی ماحول کواپنالیں اور''دعوتِ اسلامی'' کے زیراہتمام سفرکرنے والے ''مدنی قافلوں'' میں خوب خوب سفر کریں،اجتماعات میں شریک ہوں اور''مدنی انعامات'' پرعمل پیراہوں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ بانئ دعوتِ اسلامی ،امیرِ اہلسنت حضرتِ علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطارؔقادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کاسایہ ہمارے سروں پر تا دیرقائم رکھے اوردعوتِ اسلامی کودن دُگنی اوررات چُگنی ترقی عطافرمائے۔ )
؎ اللہ کرم ایساکرے تجھ پہ جہاں میں اے دعوتِ اسلامی تیری دھوم مچی ہو(آمین)!
(آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
(اللہ عَزَّوَجَلَّ ہماری اس کوشش کوقبول ومنظورفرمائے ۔اوراس کتاب کوہمارے لئے ذر یعۂ نجات بنائے۔ اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صدقے ہم سب مسلمانوں کاخاتمہ بالخیرفرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)