Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
406 - 412
نابینے کی خواہش
    راہب نے کہا:''مشہورہے کہ کسی تاجرنے ایک جگہ اپنے سو(100)دیناردبادئیے ۔ اس کے پڑوسی نے اسے دیکھ لیا اور موقعہ ملتے ہی ساری رقم نکال کراپنے گھرلے گیا۔تاجرنے جب اپنی رقم نہ پائی توخوب رویااورپریشان ہوا۔جب بڑھاپاآیا تواس کی بینائی چلی گئی اوروہ شدیدمحتاج ہوگیا۔جب پڑوسی کی موت قریب آئی تواسے حساب کاخوف لاحق ہوا،اس نے وقت کی نزاکت کوسمجھتے ہوئے سودیناراس نابیناکودے دیئے۔ نابیناکوساراواقعہ معلوم ہواتووہ مال ملنے پر ا تناخوش ہواکہ پہلے کبھی اتناخوش نہ ہواتھا۔اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کاشکربجالاتے ہوئے کہا:''تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے مجھے وہ چیزعطافرمائی جس کامیں شدید محتاج تھا۔اے کاش!اس دن مجھ سے سارامال لے لیاگیاہوتااورآج لوٹادیا جاتا کیونکہ آج کے دن میں اس کازیادہ محتاج ہوں۔''

    راہب نے کہا:'' جوشخص یہ جانتاہے کہ اسے ایک ایسے دن کا سامناضرورکرناپڑے گاجس میں اچھے اعمال کی طرف بہت زیادہ محتاجی ہوگی تواسے چاہے کہ وہ اعمالِ صالحہ کاذخیرہ کرلے۔مجھے سخت تعجب ہے ان لوگوں پرجوان باتوں پرعمل نہیں کرتے جنہیں وہ جانتے ہیں ۔گویاکہ وہ اس طرح ہلاک ہوناچاہتے ہیں جیسے'' سیلاب والا''ہلاک ہوا۔''سرداروں نے پوچھا:''وہ کیسے ہلاک ہوا؟''
اوروہ غرق ہوگیا۔۔۔۔۔۔!
    راہب نے کہا:''اس کاواقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک شخص نے سیلاب آنے کی جگہ اپنا گھر بنا رکھا تھا۔جب اس سے کہا گیا کہ ''یہ بہت خطرناک جگہ ہے یہاں سے ہٹ جا ۔''تواس نے کہا:''مجھے معلوم ہے کہ یہ جگہ خطرناک ہے لیکن اس کی خوبصورتی و شادابی نے مجھے تعجب میں ڈال دیاہے ۔''اس سے کہاگیاکہ'' تمام رونقیں اور خوبصورتیاں زندگی کے ساتھ ہیں ،لہٰذااپنی جان کی حفاظت کر،اپنے آپ کوخطرے میں نہ ڈال۔''اس نے کہا:''میں یہ جگہ ہرگزنہیں چھوڑوں گا۔''پھرایک رات حالتِ نیند میں اسے سیلاب نے آلیااوروہ غرق ہو کر مر گیا۔لوگوں نے اس کاانجام دیکھ کراس طرح کہاجس طرح زمانے والوں نے کہا:'' ہم پیداہوتے اورمرجاتے ہیں اورہم میں سے جومرجاتاہے وہ واپس لوٹ کرنہیں آتا۔

    راہب نے کہا:''اگرہم سمجھداری سے کام لیں توہم بھی'' اَفرَوْلیہ'' والوں کی طرح ہوجائیں گے۔''سرداروں نے کہا: ''اصحابِ افر و لیہ '' کون تھے؟اوران کامعاملہ کیاتھا؟''
Flag Counter