Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
375 - 412
حکایت نمبر482:             مغروربادشاہ کی موت
    حضرتِ سیِّدُنا وَہْب بن مُنَبِّہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''ایک بہت بڑی سلطنت کے بادشا ہ نے ارادہ کیا کہ میں اپنے سارے ملک کاگشت کروں۔ چنانچہ، اس نے اپنا بہترین لباس منگوایا لیکن وہ پسند نہ آیا۔ پھر اس سے عمدہ لباس منگوایا، لیکن پسند نہ آیا۔ بالآخر سینکڑوں لباسوں میں سے اسے اپنی پسند کا جوڑا مل گیا۔ پھر گھوڑے لائے گئے تو ان میں سے کوئی گھوڑاپسند نہ آیا آخرکار ہزاروں گھوڑوں میں سے اسے اپنی پسند کا گھوڑا مل گیا۔اب بادشاہ بڑی شان وشوکت سے لشکر کے ہمراہ سفر پر روانہ ہوا، راستے میں ابلیسِ لعین نے بہکایاتو غرورو تکبر کی آفت میں مبتلا ہوگیااور گردن اَکڑائے بڑے شاہانہ انداز میں آگے بڑھنے لگا۔ غروروتکبر کی وجہ سے لوگوں کی طرف نظر اٹھاکر بھی نہ دیکھتاتھا۔ راستے میں ایک ضعیف وناتواں شخص بوسیدہ کپڑوں میں نظر آیا، اس نے سلام کیا لیکن بادشاہ نے نہ تو جواب دیا نہ ہی اس کی طرف دیکھا ۔اس نے کہا:'' اے بادشاہ! مجھے تجھ سے ضروری کام ہے۔'' بادشاہ نے اس کی بات سُنی اَن سُنی کر دی ۔ اس نے آگے بڑھ کر گھوڑے کی لگام پکڑلی۔ بادشاہ نے تِلمِلا کر کہا: ''لگام چھوڑ! تو نے ایسی حرکت کی ہے کہ تجھ سے پہلے کسی نے ایسی جراء َت نہیں کی۔'' کہا:'' مجھے تجھ سے بہت ضروری کام ہے۔'' 

    بادشاہ نے کہا:''ابھی تو ہمارامہمان بن جا! واپسی پر تیری بات سن لوں گا۔'' کہا : ''ہرگز نہیں! خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم !مجھے ابھی تجھ سے کام ہے۔'' بادشاہ نے کہا:'' بتا !کیا کام ہے؟'' کہا: '' ایک راز کی بات ہے، میں چاہتا ہوں کہ صرف تجھے ہی معلوم ہو،لا، اپنا کان میرے قریب کر۔'' بادشاہ نے سر جھکایا تو اس نے کہا:'' میں مَلَکُ الْمَوْت(علیہ السلام)ہوں، تیری روح قبض کرنے آیا ہوں۔'' یہ سننا تھا کہ بادشاہ مارے دہشت کے تھر تھرکانپنے لگا ، رنگ متغیر ہوگیا ،اس نے خوف زدہ لہجے میں کہا:'' اس وقت مجھے کچھ مہلت دے دو ،تاکہ میں جس کام سے نکلا ہوں اسے پورا کرآؤں،پھر تم جو چاہے کرنا۔'' ملک المو ت علیہ السلام نے کہا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !تو اپنی سلطنت کو اب کبھی نہ دیکھ سکے گا ۔''بادشاہ نے منت سماجت کرتے ہوئے کہا:'' اچھا! مجھے میرے گھر والوں کے پاس ہی جانے کی مہلت دے دو۔'' ملک الموت علیہ السلام نے فرمایا:''ہرگز نہیں، خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اب تو کبھی بھی اپنے اہل وعیال سے نہ مل سکے گا۔'' یہ کہہ کر اس کی روح قبض کرلی اور اس کابے جان جسم گھوڑے سے زمین پر آ پڑا ۔

؎ آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں		سامان سو برس کا پَل کی خبر نہیں

کُوچ ہاں اے بے خبر ہونے کو ہے 		کب تَلَک غفلت سحر ہونے کو ہے

جلد آخرت بنا لے کچھ نیکیاں کما لے		کوئی نہیں بھروسہ اے بھائی زندگی کا

    حضرتِ سیِّدُناجَرِیْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: '' پھر ملک الموت علیہ السلام ایک نیک شخص کے پاس گئے اور سلام کیا، اس مردِ صالح نے جواب دیا،ملک الموت علیہ السلام نے فرمایا:'' مجھے تم سے ضروری کام ہے۔'' پوچھا:'' بتایئے!کیاکام ہے؟'' کہا: ''
Flag Counter