Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
367 - 412
صحبت اختیار کریں ،نیک لوگوں کے اجتماع میں جائیں تاکہ ہماری خالی جھولیاں خوفِ خداوعشقِ مصطفی عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی دولتِ عُظمٰی سے بھر جائیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ! آج کے اِ س پُر فتن دور میں تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی ہمیں ایسا پاکیزہ ماحول فراہم کرتی ہے کہ جس میں رہ کر نیکیاں کرنا آسان ہوجا تاہے،  گناہوں سے نفرت اور نیکیوں سے محبت ہونے لگتی ہے، آپ بھی اپنے اپنے شہروں میں ہونے والے دعوت اسلامی کے ہفتہ وارسنتو ں بھرے اجتماع میں پابندیئ وقت کے ساتھ شرکت فرما کر خوب خوب سنتوں کی بہاریں لُوٹئے۔ دعوت اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے بے شمار مدنی قافلے شہر بہ شہر،گاؤں بہ گاؤں سفر کرتے رہتے ہیں،آپ بھی سنتوں بھرا سفر اختیار فرما کراپنی آخرت کے لئے نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کریں۔ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے ''مکتبۃ المدینہ'' سے مدنی انعامات نامی رسالہ حاصل کر کے اس کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کیجئے۔اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ اپنی زندگی میں حیرت انگیزانقلاب برپا ہوتا دیکھیں گے۔ )

؎ اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں		اے دعوتِ اسلامی تیری دھوم مچی ہو (آمین)!

( آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر474:         حضرتِ فا روقِ ا عظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تقویٰ
    حضرتِ سیِّدُنا جُمَیْع بن عُمَیْرتَیْمِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما کو ارشاد فرماتے سنا:''ایک مرتبہ مالِ غنیمت سے چالیس (40)ہزاردرہم میرے حصے میں آئے، میں نے سامان خریدا اور مدینۂ منورہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًامیں اپنے والد ِ محترم ،خلیفۂ ثانی، امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمربن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خد مت میں حاضرہوا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سامان دیکھ کرپوچھا: ''یہ کیاہے؟''میں نے عرض کی:''مجھے مالِ غنیمت سے چالیس ہزار درہم ملے یہ سامان اسی رقم سے خریدا ہے ۔'' فرمایا: ''اے میرے بیٹے! اگرمجھے آگ کی طرف لے جایاجائے توکیاتم یہ سامان فدیہ میں دے کرمجھے بچا لو گے؟'' میں نے کہا:''کیوں نہیں!بلکہ میں اپنا سب کچھ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر قربان کر دوں گا۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''میرے بیٹے !بے شک میں جھگڑے میں پھنساہواہوں، لوگوں نے یہ سمجھ کرکہ یہ رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی اورامیرالمؤمنین کے لاڈلے بیٹے ہیں، تمہیں سستے داموں سامان بیچ دیاہواورہوسکتاہے ایک درہم نفع لینابھی پسند نہ کیاہو۔میرے بیٹے سنو! عنقریب میں تمہیں ایسانفع دوں گاکہ کسی قریشی مرد سے ایسانفع نہ ملا ہوگا۔''

    یہ کہہ کرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرتِ سیِّدَتُناصَفِیَّہ بنتِ عبیدرضی اللہ تعالیٰ عنہاکے پاس آئے اورکہا:''اے ابوعبیدکی بیٹی !میں
Flag Counter