| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
؎ ہے چٹائی کا بچھونا کبھی خاک ہی پہ سونا کبھی ہاتھ کا سرہانہ مدنی مدینے والے!
تیری سادگی پہ لاکھوں تیری عاجزی پہ لاکھوں ہوں سلامِ عاجزانہ مدنی مدینے والے!
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''تمہارا کیا خیال ہے کہ مجھے عمدہ کھاناکھانے کی خواہش نہیں ہوتی، اگرمیں گھی کھانا چاہتا تو زیتون کے تیل کی جگہ گھی استعمال کرتا، میرے پاس زیتون کا تیل ہوتا ہے لیکن میں پھر بھی نمک استعمال کرتا ہوں الغرض! مجھے ان چیزوں کی خواہش ہوتی ہے لیکن میرے دونوں رہنما (حضورنبئکریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اور صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ )ایک راستے پر چلے،میں نہیں چاہتا کہ میں ان کے راستے کی مخالفت کروں ،میں ان کی مخالفت سے ڈرتا ہوں ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)حکایت نمبر450: لوگوں کو گمراہ کرنے کی سزا
حضرتِ سیِّدُنا خالدرَبَعِی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے منقول ہے ، بنی اسرائیل کے ایک شخص نے شریعت کا علم حاصل کیا اور پھر اس دینی علم کی وجہ سے دنیوی دولت اور شہرت طلب کرتا رہا ،اس کی ساری زندگی اسی کام میں گزر گئی۔ جب بڑھاپاآیا،موت کے سائے گہرے ہوئے اور سفرِدنیا ختم ہونے لگا تو اسے اپنی غلطی کا خوب احساس ہوا۔ اس نے اپنے آپ کو مخاطَب کرکے کہا: ''تو نے دین میں جو بِگاڑ پیدا کیا لو گ تو اس سے ناواقف ہیں۔ لیکن تیرا کیا خیال ہے، کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی تیرے اس بگاڑ سے بے خبر ہے؟وہ وحدہ، لاشریک جَلَّ جَلَالُہٗ ذات تو ہرہر شئے سے واقف ہے۔ اب تیری موت قریب آگئی ہے۔ تیرے لئے بہتر ہے کہ جلدازجلد اپنی بد اعمالیوں سے توبہ کر لے۔'' چنانچہ، اس اسرائیلی عالم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کی، اوراس نے اپنی ہنسلی کی ہڈی میں زنجیر ڈال کراپنے آپ کومسجد کے ستون سے باندھ دیا اور کہا : ''میں اس وقت تک اپنے آپ کوآزاد نہیں کروں گا جب تک مجھے یہ معلوم نہ ہوجائے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میری توبہ قبول فرمالی ہے۔اور اگر میری توبہ قبول نہ ہوئی تو اسی حالت میں اپنی جان دے دوں گا۔ جب اس نے اس طرح التجا کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس وقت کے نبی علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی:'' اس اسرائیلی عالم سے کہہ دو کہ اگر تیرا گناہ ایسا ہوتا جو صرف میرے اور تیرے درمیان تک محدود ہوتا تومیں تیری توبہ قبول کرلیتا لیکن جن لوگوں کو تو نے گمراہ کیا ہے ان کا کیاحال ہوگا ؟تو نے انہیں گمراہ کرکے جہنم میں داخل کروادیا اب میں تیری توبہ ہرگز قبول نہیں کروں گا(۱)۔ (الامان والحفیظ)
(اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کروڑہا کروڑاحسان کہ اس حنَّان ومنَّان پروردگار عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں نبئ آخرالزماں کے دامن سے وابستہ فرمایا۔اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے خاص کرم سے ہماری تمام خطاؤں کو معاف فرمائے اور ہماراخاتمہ بالخیر فرمائے ۔)( آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1۔۔۔۔۔۔یہ حکایت بنی اسرائیل کے ایک شخص کی ہے اوراُن کے احکام ہم سے مختلف تھے۔ جبکہ امتِ محمدیہ عَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خاص احسان ہے کہ ہمارے لئے توبہ کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔