| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
کے متعلق اس کی والدہ نے بتایاتھاوہ اس کے پاس پہنچی اور کہا :''محترمہ!میں آپ کو ایک چیزدوں گی اگرآپ کاانتقال ہوجائے تووہ چیز میری والدہ کودے دینا۔''اس نے کہا:''ٹھیک ہے!میں تمہاری امانت پہنچادوں گی ۔''پھرجووقت اوردن مرحومہ نے خواب میں بتایا تھا ٹھیک اسی وقت اس عورت کاا نتقا ل ہو گیا۔لوگوں نے لڑکی کاخریداہواکفن عورت کے کفن میں رکھ د یا۔ چنددن بعداس نے اپنی والدہ کوخواب میں یہ کہتے سنا :''اے میری بیٹی!فلاں عورت ہمارے پاس پہنچ گئی ہے اورکفن بھی مجھے مل چکاہے جو بہت اچھا ہے ۔اللہ تبارَک وتعالیٰ تجھے اس کی بہترین جزا عطا فرمائے۔ (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر428: بارگاہ ِخدا وندی عَزَّوَجَلَّ میں حاضری کا خوف
حضرتِ سیِّدُناعبدالواحد بن زید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:جب حضرتِ سیِّدُناابومحمدحَبِیْب علیہ رحمۃ اللہ ا لمُجیب کا آخری وقت آیا توبہت زیادہ آہ وزاری کی اور مسلسل ان کلمات کاتکرارکرنے لگے:
''ہائے !اب میں ایسے سفرپرجانے والاہوں جہاں پہلے کبھی نہیں گیا،میں ایسے راستے پرچلنے والاہوں جس پر کبھی نہیں چلا۔اب میں اپنے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ کی زیارت کے لئے جارہاہوں جسے میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ہائے!اب میں ایسے پُرہُول مقام کی طرف جانے والاہوں جہاں کبھی نہیں گیا۔ہائے !اب میں مٹی کے نیچے چلاجاؤں گااورقیامت تک وہیں رہوں گا ۔ پھرمجھے میرے پروردگارعَزَّوَجَلَّ کے سامنے کھڑ ا کر د یا جا ئے گا۔ ہائے!مجھے یہ خوف کھائے جارہاہے کہ اگرمجھ سے یہ کہہ دیا گیا: ''اے حبیب!ساٹھ 60) (سالہ زندگی میں اگرتُونے کبھی کوئی ایک تسبیح بھی ایسی کی ہوجس میں شیطا ن تجھ پرکامیاب نہ ہوا ہوتووہ تسبیح لے آؤ۔اگر کوئی خالص عبادت تمہارے پاس ہے تولے آؤ۔''ہائے !اس وقت میں کیاجواب دوں گا وہاں کوئی میرے پاس نہ ہوگا ۔ پس میں بصد عاجزی بارگاہِ خداوندی میں عرض کروں گا:میرے ما لک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ !واقعی میرے پاس ایساکوئی عمل نہیں،اے میرے رحیم وکریم پروردگارعَزَّوَجَلَّ !تیراگنہگاربندہ تیری بارگاہ میں حا ضرہے ،اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن سے بندھے ہوئے ہیں ۔ اے کریم!تُوکرم کر! تیراکرم ہی میراکام بنائے گا۔''
راوی کہتے ہیں کہ :''یہ تواس شخص کی آہ وبُکاہے جس نے مسلسل ساٹھ سال اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اس طرح عبادت کی کہ دنیاکی کسی چیز کی طرف متوجہ نہ ہوئے ۔جی ہاں!یہ حضرتِ سیِّدُناابوعبداللہ حَبِیْب علیہ رحمۃ اللہ المجیب اپنے زمانے کے مشہوراولیاء میں