Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
29 - 412
نے کہا :'' نہیں ! خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم !اب اس رقم سے ایک درہم بھی واپس نہیں جائے گا۔'' پھر لونڈی کے مالک کی طرف متوجہ ہو کر کہا:'' یہ تمام رقم تجھے مُبَارَک ہو ،اس سے اپنی اور اپنی نئی منکوحہ کی ضروریات پوری کرو۔'' یہ کہہ کر جَعْفَر بن یحیی نے ہمیں ساتھ لیا اورچالیس ہزار دینار وہیں چھوڑ کر واپس چلاآیا۔
حکایت نمبر218:              جنَّتی محل کی ضمانت
    حضرتِ سیِّدُناسَری بن یحیی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے کہ'' ایک شخص خُرَاسَان سے بصرہ آیا اور وہیں رہنے لگا۔ اس کے پاس دس ہزار درہم تھے ، جب حج کا پُربہار موسم آیا تو اس خُرَاسَانی نے اپنی زوجہ کے ساتھ حج پر جانے کا ارادہ کیا۔ اب یہ مسئلہ درپیش ہوا کہ یہ دس ہزار درہم کس کے پاس امانت رکھے جائیں؟۔ لوگوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا: '' تم اپنی رقم حبیب ابو محمد عجمی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے پاس رکھ دو ۔'' چنانچہ وہ حضرتِ سیِّدُنا حبیب عجمی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے پاس آیااورکہا : '' حضور! میں اور میری اہلیہ حج کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہمارے پاس دس ہزار درہم ہیں آپ یہ درہم رکھ لیں اور ہمارے لئے بصرہ میں ایک اچھا ساگھر خرید لیں۔''یہ کہہ کر اس نے ساری رقم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حوالے کی اور اپنی زوجہ کے ہمراہ حج کے لئے روانہ ہوگیا۔ حضرتِ سیِّدُنا حبیب عجمی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ اگر ہم ان دس ہزار درہم کا آٹا خریدلیں اور فقیروں پر صدقہ کردیں تو کیسا رہے گا ؟ لوگوں نے کہا:'' حضور ! یہ رقم تو اس شخص نے آپ کے پاس اس لئے رکھوائی تھی کہ آپ کوئی مکان اس کے لئے خرید لیں ۔''ارشاد فرمایا: '' میں یہ تمام رقم صدقہ کر کے اس شخص کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے جنت میں گھر خریدوں گا ، اگر وہ اس گھر پر راضی ہوا تو ٹھیک،ورنہ ہم اس کی رقم واپس کردیں گے۔'' پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آٹا اور روٹیاں منگواکر فقراء و مساکین میں تقسیم فرمادیں ۔''

     جب وہ خُرَاسَانی ،حج کر کے واپس بصرہ آیا تو حضرتِ سیِّدُنا حبیب عجمی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے پاس حاضر ہو کر عرض کی: ''اے ابو محمدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ! میں نے دس ہزاردرہم آپ کے پاس رکھوائے تھے کہ آپ میرے لیے مکان خرید لیں اگر آپ نے مکان نہیں خریدا تو میری رقم مجھے واپس کردیں تاکہ میں خود کوئی مکان خریدلوں ۔'' حضرتِ سیِّدُنا حبیب عجمی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے فرمایا: ''اے میرے بھائی ! میں نے تیرے لئے ایسا شاندار گھر خریدا ہے جس میں بہت عمدہ محل ، نہریں ،میوے اور پھل دار درخت ہیں۔'' یہ سن کر وہ خُرَاسَانی اپنی زوجہ کے پاس گیا او رکہا:'' حضرتِ سیِّدُنا حبیب عجمی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے ہمارے لئے ہمارے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے جنت میں ایک گھر خرید لیا ہے۔'' اس کی زوجہ نے کہا:'' ٹھیک ہے یہ تو بہت اچھا ہوا۔ میں امید رکھتی ہوں کہ اللہ
Flag Counter