Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
287 - 412
    قلیل پر قناعت نہیں ملتی، کثیر سے تیرا پیٹ نہیں بھرتا، آخر یہ غفلت کب تک ؟ تو ان باتوں سے خوب واقف ہے،پھر بھی اپنی جہالت سے آگاہ کیوں نہیں ہوتا؟ حالانکہ توبخوبی جانتا ہے کہ جن نعمتوں کی خوشگوار برسات میں تونہارہا ہے ان کا شکر ادا کرنے سے تو عاجز ہے۔ ان نعمتوں کا شکر ادا نہیں ہوسکتا، لیکن پھر بھی تجھے زیادہ کی طلب نے دھوکے میں مبتلا کررکھا ہے۔ وہ شخص اپنی آخرت کے لئے کیا تیاری کریگا؟ جس کی دنیوی خواہشات ہی پوری نہیں ہوتیں، جس کے دنیوی مطالبات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ انتہائی تعجب ہے اس پر جو ہمیشہ کے گھر(یعنی جنت) کی تصدیق کرنے کے باوجود دھوکے کی زندگی کے لئے سرگرداں ہے! صد ہزار افسوس ایسے شخص پر!''
حکایت نمبر418:         حضرتِ سوَّاراورنابینانوجوان
    حضرتِ سیِّدُنا سَوَّار علیہ رحمۃ اللہ الغفّار فرماتے ہیں:''ایک دن جب میں''خلیفہ مہدی'' کے دربار سے واپس آیا تونہ جانے کیوں بے قراری و بے چینی سی محسوس ہونے لگی، نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ میں اٹھا سواری تیار کی اور باہرآگیاراستے میں اپنے کاروباری وکیل سے ملاقات ہوئی ،اس کے پاس دراہم کی تھیلیاں تھیں میں نے پوچھا :''یہ رقم کہاں سے آئی؟'' کہا: ''یہ کاروباری نفع کے دو ہزار (2000) درہم ہیں۔'' میں نے کہا:''انہیں اپنے پاس رکھو اور میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ۔''اتنا کہہ کر میں نہر کی جانب چل پڑا ، پُل عبور کرکے شارع ''دارِ رفیق'' کی طرف صحراء کے قریب پہنچ کرکچھ دیر ''بابِ ِانبار '' کے گردگھومتا رہا،پھر بابِ انبار کی سڑک پر چلتا ہوا ایسے صاف ستھرے مکان کے قریب رُکا جو سرسبز و شاداب اور درختوں سے بھرا ہوا تھا۔
؎  دِلَا  غافل   نہ  ہو  یکدم   یہ  دنیا  چھوڑ  جانا  ہے			باغیچے   چھوڑ   کر   خالی   زمیں   اندر   سمانا   ہے

ترا   نازک   بدن   بھائی  جو   لیٹے  سیج پھولوں  پر		ہو گا اک دن بے  جان اسے کیڑوں نے کھانا  ہے

جہاں کے شُغل میں شاغل خدا کے ذکر سے غافل			کرے   دعویٰ  کہ   یہ  دنیا   ترا   دائم  ٹھکانہ   ہے

غلامؔ اِک  دم  نہ کر  غفلت   حیاتی   پر نہ  ہو  غُرّہ 			خدا کی یاد  کر   ہر   دم  کہ   جس   نے  کام آنا ہے
    (میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آخرت کی تیاری کے لئے قبر و حشر کی یاد بہت ضروری ہے جب ان دشوار گزار گھاٹیوں کا پُرہول منظر ہر وقت پیشِ نظر ہوگا تو ان سے بچنے کا ذہن بنے گا۔ قبر و حشر کی تیاری کے لئے'' دعوتِ اسلامی'' کے مدنی ماحول سے وابستگی اور امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ کے عطا کردہ'' مدنی انعامات ''پر عمل بہت مفید ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں مدنی قافلوں کا مسافر اور مدنی انعامات کا عامل بنائے۔) ( آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
Flag Counter