نعمت جانو،اگراس کی طرف سے کچھ نہ ملے تو اس نہ ملنے کو عطا سمجھو۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ساتھ ہوتے ہوئے تنہائی بھی اُنس ہے۔ اے بھائی ! ذلت کو عزَّت جانو۔ زندگی کو موت سمجھو۔ اطاعت و فرمانبرداری کو پیشہ اور توکل کو معاش سمجھو۔ بخدا! ہر شدت کے لئے ایک وقت مقررہے۔'' اتنا کہہ کر وہ شخص چلا گیا۔پھر ایک ماہ تک اس نے مجھ سے کلام نہ کیا۔ میں نے کہا:'' اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے! اب میں اپنے وطن واپس جانا چاہتا ہوں اگر مناسب سمجھو تومزید کچھ نصیحت کرو۔ '' کہا:'' جان لو ! بے شک زاہد (یعنی دنیا کو چھوڑنے والا) وہ ہے کہ اسے جو ملے اسی پر گزارہ کرے۔ جہاں چاہے رہے۔ اس کا لباس اتنا ہی ہو جو ستر پوشی کا کام دے سکے۔ تنہائی اس کی مجلس اورتلاوتِ قرآن اس کامشغلہ ہو۔اللہ ربُّ العزَّت اس کا محبوب ، ذکر ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ اس کی غذا ، خاموشی اس کی جنت، خوف اس کی عادت و فطرت، شوق اس کا مطلوب، نصیحت اس کی ہمت اور اس کا غور و فکر عبرت ،صبر اس کا تکیہ اور صدیقین اس کے بھائی ہوں۔ اس کا کلام حکمت، عقل اس کی دلیل، حلم اس کا دوست ،بھوک اس کا سالن اور آہ و زاری اس کی عادت ہوتی ہے اور اس کا مطلوب و مقصود صرف اورصرف اللہ ر بُّ العزَّت کی ذات ہوتی ہے۔ ''
حضرتِ سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ''اس کی یہ حکمت بھری عارفانہ باتیں سن کر میں نے اس سے پوچھا:''انسان اپنی غلطیوں اور نقصان پرکب مطلع ہوتا ہے؟'' فرمایا:'' جب وہ اپنے نفسں کا محاسبہ کرنے والے لوگوں کے پاس بیٹھے گا تو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے خوب واقف ہوجائے گا۔'' اتنا کہہ کر وہ حکیم و دانا شخص اپنے گھر میں داخل ہوگیا۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)