Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
268 - 412
حیاء نہیں آتی؟'' شیطان نے کہا:''بخدا! یہ جو آپ کے نزدیک انسان موجود ہیں یہ انسان کہا ں؟ اگر یہ انسان ہوتے تو میں ان سے اس طرح نہ کھیلتا جس طرح بچے گیند سے کھیلتے ہیں۔ انسان ایسے نہیں ہوتے ۔'' میں نے کہا :''توکن لوگوں کو انسان سمجھتا ہے؟'' بولا:'' وہ جو مسجدِ شُونِیْزِی میں ہیں، انہوں نے میرے دل کو غم میں مبتلا کررکھا ہے اور میرے جسم کو انتہائی کمزور کر دیا ہے۔ میں جب بھی انہیں بہکانے کا ارادہ کرتا ہوں وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مدد طلب کرتے ہیں اور میں جلنے لگتا ہوں۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب میری آنکھ کھلی توابھی کافی رات باقی تھی۔ میں فوراً لباس تبدیل کرکےمسجدِ شُونِیْزِی پہنچا تو وہاں تین آدمیوں کو سر پر چادر ڈالے مسجد کے صحن میں بیٹھے دیکھا۔جب انہوں نے محسوس کیا کہ میں مسجد میں داخل ہوا ہوں تو ایک نے اپنا سر چادر سے باہر نکالا اور فرمایا:'' اے ابوالقاسم! توو ہی ہے کہ جب بھی تجھ سے کوئی بات کہی جائے تواسے قبول کرلیتا ہے۔''

    حضرتِ ابنِ جَہْضَم فرماتے ہیں :مجھے ابو عبداللہ بن جبَّار علیہ رحمۃ اللہ الغفار نے بتایا کہ تین شخص جو ''مسجدِ شُونِیْزِی'' میں تھے، وہ ابو حمزہ ، ابوالحسین ثَوْرِی اور ابوبَکْردَقَّاق علیہم رحمۃاللہ الرزّاق تھے۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر402:             حکمت ودا نائی کی باتیں
 حضرتِ سیِّدُنایوسف بن حسین علیہ رحمۃُربِّ الکونین سے منقول ہے: میں نے حضرتِ سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو یہ فرماتے سُنا:''مجھے ایک مغربی کے متعلق بتایا گیا کہ وہ بہت حکمت و دانائی کی باتیں کرنے والا مردِ صادق ہے''۔ اس خبر نے مجھے اس کی ملاقات پر اُبھارا۔ میں نے رختِ سفر باندھا اور مطلوبہ منزل کی جانب چل پڑا، وہاں پہنچ کر ان کے دروازے پر تقریباً چالیس(40)دن تک ٹھہرا رہا۔ وہ نماز کے وقت گھر سے نکلتے نماز پڑھ کر واپس چلے آتے۔ کسی کی طرف متوجہ نہ ہوتے ۔ ایک دن میں نے ان سے کہا :''اے بندۂ خدا!میں چالیس دن سے آپ کے دروازے پر ٹھہرا ہوا ہوں لیکن آپ نے ایک مرتبہ بھی مجھ سے گفتگو نہیں کی۔

     اس نے کہا:''اے میرے بھائی ! میری زبان خونخوار درندہ ہے۔ اگر میں اسے چھوڑ دوں گا تو یہ مجھے کھا جائے گی۔'' میں نے کہا :''اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے !مجھے کچھ نصیحت کرو تاکہ میں اسے یادکرلوں۔''کہا:'' کیاتم ایسا کرسکو گے ؟'' میں نے کہا : ''اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ۔'' فرمایا:''سنو! دنیا سے محبت نہ کرو۔ فقر کو غنا ء سمجھو۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے آنے والی آزمائش کو
Flag Counter