Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
256 - 412
ہوتیں۔ اس کے دل کی مونس وغم خوار طویل رات ہوتی ہے جواسے لذت و سکون فراہم کرتی ہیں اوردن کی روشنی اسے وحشت میں مبتلا کر دیتی ہے اسی طویل رات سے وہ اپنا مقصدومدّعا پورا کرتاہے اور معرفت حاصل کرتا رہتا ہے۔ عبادت وریاضت اور صحراؤں میں گھومنے پھرنے کو وہ اپنا شیوابنالیتا ہے اور یہ اس کا ہر وقت کا مشغلہ بن جاتا ہے ۔''

     یہ اس عورت کا بیٹا تھاجو اس طر ح کلام کررہا تھا ۔ میں نے عور ت سے پوچھا:'' تمہارا بیٹا یہاں کتنے عرصے سے رہ رہا ہے ۔'' اس نے کہا:'' جب سے میں نے اسے اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کے لئے وقف کیا اور اس نے اسے اپنی عبادت کے لئے قبول فرما یا ہے اس وقت سے یہ اس ویرانے میں مصروفِ عبادت ہے ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر390:         سیاہ فام خادمہ کی نصیحت بھری گفتگو
    حضرتِ سیِّدُنامحمد بن حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی کہتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو یہ فرماتے سنا :'' ایک مرتبہ میں بنی اسرائیل کے ''تِیہ'' نامی جنگل میں گھوم رہا تھا کہ میری ملاقات ایک سیاہ فام لونڈی سے ہوئی ۔ وہ یادِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں ایسی مگن تھی کہ آس پاس کی خبر ہی نہ تھی۔ وہ مسلسل آسمان کی جانب دیکھے جارہی تھی۔ میں نے قریب جاکر کہا: ''اے میری بہن !اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ ۔'' اس نے کہا:''وَعَلَیْکُمُ السَّلَام، اے ذُوالنُّوْن مِصْرِی!'' جب میں نے اس کی زبان سے اپنا نام سنا تو حیران ہو کر پو چھا: ''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندی! تو نے میرا نام کیسے جانا؟ حالانکہ آج سے قبل ہماری کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ '' اس نے کہا:'' بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جسموں کی تخلیق سے دوہزار سال قبل روحوں کو پیدا فرمایا،پھر وہ روحیں عرشِ معلی کے گرد گھومتی رہیں۔ ان میں سے جن روحوں نے ایک دوسرے کو وہاں پہچانا وہ دنیا میں بھی ایک دوسرے سے اُنس رکھتی ہیں اور جنہوں نے وہاں نہ پہنچا نا ان میں آپس میں اختلاف ہے ۔ میری روح نے تیری روح کو عرشِ معلی کے گرد پہچان لیا تھا اسی لئے آج بھی وہ تجھ سے واقف ہے۔''

    حضرتِ سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: '' میں اس سیاہ فام لونڈی کی یہ حکیمانہ گفتگوسن کر حیران ہو گیا۔'' میں نے اس سے کہا:'' اے نیک بی بی! میں تجھے دانا وعقلمندسمجھتا ہوں۔اللہ ربُّ العزَّت نے جو چیز تجھے سکھائی ہے اس میں سے مجھے بھی کچھ سکھادے ۔'' اس نے کہا:'' اے ابو فیض ! اپنے اعضاء پر میزان کا خوف طاری کرلے یہاں تک کہ تیرے جسم کی ہر وہ چیز پگھل جائے جو غیر اللہ کے لئے ہو ۔ بس تیر ا دل باقی رہے اور اس کی بھی یہ حالت ہو کہ اس میں اللہ ربُّ العزَّت کے علاوہ کسی کا
Flag Counter