Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
240 - 412
حکایت نمبر373:             عربی غلام کی سخاوت
    حضرتِ سیِّدُنا حسن بن محمدعلیہ رحمۃاللہ الاحد کہتے ہیں، میں نے حضرتِ سیِّدُنا ابوبَکْر بن عَیَّاش علیہ رحمۃ ا للہ الرزاق کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک شخص نے حاتم طائی سے کہا: '' کیا عربوں میں تجھ سے زیادہ بھی کوئی سخاوت کرنے والا ہے ؟'' اس نے کہا:'' ہر عربی مجھ سے زیادہ سخی ہے۔'' پھر اس نے اپنا ایک واقعہ کچھ اس طر ح بیان کیا: ''ایک رات میں ایک عربی غلام کے ہاں مہمان بنا ۔ اس کے پاس عمدہ قسم کی سو بکریاں تھیں ۔ اس نے ایک بکری میرے لئے ذبح کی اور گوشت پکا کر میری ضیافت کی ۔جب اس نے بکری کامغزمیری طرف بڑھایا تو وہ بہت لذیذتھا۔میں نے کہا :'' کتنا لذیذہے!'' پھر وہ چلا گیا اور بکریاں ذبح کرکے ان کامغزپکا پکا کرمجھے کھلاتا رہا یہاں تک کہ میں خوب سیر ہوگیا۔ جب صبح ہوئی تو میں نے دیکھا کہ وہ اپنی سو کی سو بکریاں ذبح کر کے ان کامغزمجھے کھلاچکا تھا۔ اب اس کے پاس ایک بکری بھی نہ بچی تھی ۔ یہ تو ایک عربی غلام کی میزبانی کا حال ہے، اب تم خود ہی سوچو کہ عرب کتنے مہمان نواز ہوں گے۔

     سائل نے حاتم طائی سے کہا:''اس کی میزبانی کا تم نے کیا صلہ دیا؟'' اس نے کہا :''اگر میں اپنی تمام چیزیں بھی اسے دے دیتا تو اس کے احسان کا بدلہ نہ چکا سکتاتھا۔'' سائل نے کہا :'' وہ تو ٹھیک ہے لیکن تم نے اسے کیا دیاتھا؟'' حاتم طائی نے کہا: ''میں نے اپنی پسندیدہ اونٹنیوں میں سے سو اونٹنیاں اسے دے دیں۔''
حکایت نمبر374:             حاتِم طائی کی سخاوت
     حضرتِ سیِّدُنامِلْحَان طائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے،'' حاتم طائی کی زوجہ''نَوَار'' سے کہا گیا:''ہمیں حاتم طائی کے متعلق کچھ بتاؤ۔'' اس نے کہا :'' حاتم طائی کا ہر کام عجیب تھا۔ ایک مرتبہ قحط سالی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، زمین نے بالکل سبزہ نہ اُگایا۔ آسمان سے پوراسال با رش نہ ہوئی۔ بھوک اور کمزوری نے دودھ پلانے والیوں کو دودھ پلانے سے روک دیا ۔ اونٹ سارا سارا دن پانی کی تلاش میں پھر تے لیکن انہیں ایک قطر ہ پانی نہ ملتا ۔ ہر ذی روح بھوک وپیاس سے بے تاب تھا ۔ ایک رات سردی نے اپنا پورا زور دکھا رکھا تھااور ہمارے گھر میں کھانے کے لئے ایک لقمہ بھی نہ تھا ۔ ہمارے بچے، عبداللہ ، عَدِی ، اورسَفَّانَہ بھوک سے بِلْبِلا رہے تھے۔ وَاللہ(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم)! ہمارے پاس انہیں دینے کے لئے کچھ بھی نہ تھا ۔ بچو ں کی آہ وبکا سن کر ایک کو حاتم طائی اور دوسرے کو میں نے گود میں اٹھالیا، ہم انہیں کافی دیر تک بہلاتے رہے ۔ لیکن بھوک نے ان کا برا حال کر رکھا تھا۔
Flag Counter