کہا: ''یہ ہمارے آقا عبداللہ بن جَعْفَررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی جانب سے آپ لوگوں کے لئے ہدیہ ہے ۔''
کنیزنے کہا:''یہ سامان واپس لے جاؤ، ہم لوگ مہمان نوازی پر قیمت نہیں لیتے ۔'' خادم واپس آگیا اور حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن جَعْفَر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو صورتحال سے آگاہ کیا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' دوبارہ جاؤ !اگر وہ یہ مال قبول کرلیں تو ٹھیک ہے ورنہ خیمے کے پاس رکھ کرواپس چلے آنا ۔'' خادم دوبارہ آیا تو لونڈی نے سامان لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا:''واپس لے جاؤ! اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اس میں برکت دے۔ ہم مہمان نوازی کی قیمت نہیں لیتے ۔خدا را! جلدی سے چلے جاؤ، اگر ہمارے شیخ نے تمہیں یہاں دیکھ لیاتو بہت ناراض ہوں گے ۔''خادم کپڑوں کی گٹھڑی اور دیناروں کی تھیلیاں خیمے کے قریب رکھ کر واپس آگیا ۔ ہم نے سفر شروع کردیاا بھی تھوڑی ہی دور چلے تھے کہ اپنے پیچھے خاک اڑتی دیکھی ۔ کوئی سوار بڑی تیزی سے ہماری جانب چلا آرہا تھا ۔ جب قریب آیاتووہ ہمارا عُذْرِی میزبان تھا ۔اس نے دینار اور کپڑے ہماری جانب پھینکے اور فوراً واپس پلٹ گیا۔ ہم اسے جاتا دیکھتے رہے لیکن اس عظیم میزبان نے ایک مرتبہ بھی پیچھے مڑکر نہ دیکھا ۔ اس عُذْرِی میزبان کی مہمان نوازی کا انوکھا طر زِ عمل دیکھ کر حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن جَعْفَر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بے اختیار پکار اُٹھے:'' ہم پر آج تک کوئی غالب نہ آسکاسوائے اس عُذْرِی میزبان کے ، کہ آج یہ ہم پر سبقت لے گیا۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)