حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن جَعْفَر علیہ رحمۃاللہ الرَّب کے غلام بُدَیْح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بیان ہے کہ'' ایک سفر میں، مَیں حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن جَعْفَر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ تھا ۔ ہم نے بالوں سے بنے ایک خیمے کے قریب قیام کیا جو قبیلہ بنی عُذْرَہ کے ایک شخص کا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک شخص عمدہ اونٹنی لے کر ہمارے پاس آیا اور کہا:'' اے قافلے والو! اگر تمہارے پاس چُھری ہو تو مجھے دو۔'' ہم نے اسے چُھری دی ،اس نے فوراً اپنی اونٹنی کو'' نَحْر(یعنی ذَبح )'' کیا اور کہا :'' میرے بھائیو! یہ گوشت تمہارے لئے ہے۔'' اتنا کہہ کر وہ چلا گیا ۔ ہم سب نے سیر ہو کرگوشت کھایا لیکن پھر بھی بہت سابچ گیا۔ دو سرے دن وہی شخص ایک اور بہترین اونٹنی لے کر آیا اور کہا :'' اے لوگو ! مجھے چُھری دو ۔''ہم نے کہا:'' ہمارے پاس کل کا گو شت کافی مقدار میں موجود ہے، تم یہ اونٹنی ذبح نہ کرو۔''اس نے کہا:''تم میرے مہمان ہوکر باسی گوشت کھاؤ، یہ نہیں ہوسکتا، لاؤ!مجھے چُھری دو۔'' ہم نے چُھری دے دی۔ اس نے اونٹنی نحر کی اور کہا:'' کھاؤ !یہ سب تمہارے لئے ہے ۔''تیسرے دن پھرایک اونٹنی لے کر آیا اور کہا:'' اے اہلِ قافلہ! مجھے چُھری دو۔'' ہم نے کہا :''اے بھائی! ابھی ہمارے پاس بہت گوشت ہے، تم یہ اونٹنی ذبح نہ کرو ۔''اس نے کہا:'' یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم میرے مہمان ہو کر باسی گوشت کھاؤ، یہ مُرُوَّت کے خلاف ہے ، لاؤ! چُھری دو ۔'' ہم نے چُھری دی تو اس نے فوراً اونٹنی نحر کی اور کہا: '' کھاؤ! یہ سب تمہارے لئے ہے ۔ ' ' یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔
سب قافلے والے اس عُذْرِی کی مہمان نوازی دیکھ کر بہت حیران ہو رہے تھے کہ اس نے تین دن متواتر ہماری ضیافت کے لئے عمدہ تر ین اونٹنیاں ذبح کیں ۔یہ واقعی تعجب خیز بات تھی ۔ بہر حال اب کوچ کا وقت ہوچکا تھا۔ہم نے تیاری شرو ع کر دی۔ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن جَعْفَر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے خادم سے کہا :'' تمہارے پاس کیا کچھ ہے؟'' اس نے کہا:'' حضور! کپڑوں کی ایک گٹھڑی اور چار سو دینار ۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :'' جاؤ! یہ سب چیزیں ہمارے اس عُذْرِی میزبان کو تحفتاً دے آؤ ۔'' خادم کپڑوں کی گٹھڑی اور چار سودینار لے کر خیمے کی جانب گیا۔ وہا ں ایک کنیز ملی، خادم نے سامان اس کی طرف بڑھاتے ہوئے