Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
221 - 412
     وہ سیدھا اپنے چچا صَفْوَان بن مُحْرِزکے پاس پہنچا اور دروازے پر دستک دی، اندر سے آواز آئی: ''کون ؟'' کہا: ''آپ کا بھتیجا۔ '' اپنے بھتیجے کی اس طرح اچانک آمد پر آپ بہت حیران ہوئے اور دروازہ کھول کر اندر لے گئے ۔ پھر حقیقتِ حال دریافت کی تو اس نے رات والا سارا واقعہ سنا دیا۔صَفْوَان بن مُحْرِز نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا او راپنے بھتیجے سے گفتگو کرنے لگے۔
حکایت نمبر359:             بخل کابھیانک انجام
    مُنِیفَہ بنتِ رومی کا بیان ہے، مَیں مکۂ معظمہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا میں مقیم تھی۔ ایک دن میں نے ایک بارونق مقام پر لوگو ں کا ہجوم دیکھا۔ قریب جانے پر معلوم ہوا کہ ایک عورت کا سیدھا ہاتھ مفلوج ہوچکاہے اور لوگ اس سے مختلف قسم کے سوالات پوچھ رہے ہیں ۔ جب اس عورت سے پوچھا: ''تمہارا ہاتھ کیسے مفلوج ہوا؟'' تو اس عورت نے اپنی داستانِ عبرت نشان کچھ اس طر ح سنائی:'' آج سے کچھ عرصہ قبل میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی تھی۔ میرے والد بہت نیک وپار ساتھے ۔کثرت سے صدقہ و خیرات کرتے اور غرباء کی حتی الوَسع امداد کیا کرتے ۔جبکہ میری والدہ انتہائی کنجوس تھی۔ پوری زندگی میں صرف ایک پرانا سا کپڑا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں دیا اورایک مرتبہ جب میرے والد نے گائے ذبح کی تو اس کی کچھ چربی کسی غریب کو دی اس کے علاوہ کبھی بھی کوئی چیز راہِ خداعَزَّوَجَلَّ میں خرچ نہ کی۔ 

    اپنے والدین کے انتقال کے کچھ دن بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا والد ایک حوض (یعنی تالاب) کے کنارے کھڑا ہے اور لوگوں کو پیالے بھر بھر کر پانی پلا رہا ہے ۔ میں وہاں کھڑی سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ اچانک میری نظر اپنی والدہ پر پڑی جو زمین پر پڑی ہوئی تھی اس کے ہاتھوں میں وہی چر بی تھی جو اس نے صدقہ کی تھی اور اسی پرانے کپڑے سے اس کا ستر ڈھانپا ہوا تھا جو اس نے صدقہ کیا تھا۔ وہ شدتِ پیاس سے '' ہائے پیاس !ہائے پیاس !''کی صدائیں بلند کر رہی تھی ۔یہ درد ناک منظر دیکھ کر میں تڑپ اٹھی۔ میں نے کہا: ''ہائے ! یہ تو میری والدہ ہے اور جو دیگر لوگوں کو پانی پلا رہا ہے وہ میرا والد ہے۔میں حوض سے ایک پیالہ بھر کر اپنی والدہ کو پلا ؤں گی ۔پھر جیسے ہی پیالہ بھرکر اپنی والدہ کے پاس آئی تو آسمان سے منادی کی یہ ند اسنائی دی: '' خبردار! جو اس کنجوس عورت کو پانی پلائے گا اس کا ہاتھ مفلوج ہوجائے گا۔''پھر میر ی آنکھ کھل گئی اور اس وقت سے میرا ہاتھ ایسا ہے جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ الامان والحفیظ۔

؎ دولتِ دُنیا کے پیچھے تو نہ جا 		آخرت میں مال کا ہے کام کیا

مالِ دُنیا دو جہاں میں ہے وبال		کام آئے گا نہ پیشِ ذوالجلال
Flag Counter