Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
220 - 412
''اے عجمی! تلوار زنی اور نیزہ زنی کے نتیجے میں موت واقع ہو سکتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ہم کشتی کر لیں ۔'' اتنا سنتے ہی وہ میری طرف بڑھا اور دیکھتے ہی دیکھتے مجھے پچھاڑکر میرے سینے پر سوار ہوگیا اور بڑے سخت لہجے میں کہا:'' بتا! تجھے کس طر ح قتل کروں ؟'' وہ مجھے ذبح کرنے ہی والا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور بارگاہِ خدا وندی عَزَّوَجَلَّ میں اس طر ح عرض گزار ہوا :

    '' اے میرے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ !میں گواہی دیتا ہوں کہ (تیرے سوا)عرش سے لے کر زمین کے نچلے حصے تک سب معبودباطل ہیں ،صرف تو اکیلا ہی اسی لائق ہے کہ تیری عبادت کی جائے ۔ بے شک تو جانتا ہے کہ اس وقت میں کس مصیبت میں گرفتار ہوں۔ میرے کریم عَزَّوَجَلَّ ! مجھ سے اس مصیبت کو دور فرما۔ '' بس یہ دعا کرنی تھی کہ مجھ پر غشی طا ری ہوگئی۔ جب ہوش آیا تو دیکھا کہ وہ خونخوار رومی میرے قریب مردہ حالت میں پڑا ہوا ہے ۔ میں نے اس مصیبت سے چھٹکارے پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا اور جانب منزل روانہ ہوگیا۔
حکایت نمبر358:                  دُعا کی تاثیر
    جب صَفْوَان بن مُحْرِز کے بھتیجے کو زمانے کے ظالم وجابر حاکم ابنِ زیاد نے قید کرلیا تو آپ بہت پریشان ہوئے او ر اپنے بھتیجے کی رہائی کے لئے بصرہ کے امراء اور بااثر لوگوں سے سفارش کروائی لیکن کامیابی نہ ہوسکی۔ ابنِ زیاد نے سب کی سفارشوں کو رد کر دیا۔ صَفْوَان بن مُحْرِز نے بڑی تکلیف دِہ حالت میں رات گزاری ۔ رات کے پچھلے پہر انہیں اچانک اونگھ آ گئی تو خواب میں کسی کہنے والے نے کہا :'' اے صَفْوَان بن مُحْرِز! اٹھ اور اپنی حاجت طلب کر۔ ''

    یہ خواب دیکھ کر ان کی آنکھ کھل گئی۔ ایک انجانے سے خوف نے ان کے جسم پر لزرہ طاری کردیا تھا۔ انہوں نے وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کی اور پھر رو رو کربارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں دعا کرنے لگے۔ یہ اپنے گھر میں مصروف دعا تھے اور وہاں ابنِ زیاد بے چینی اورکَرب میں مبتلا تھا ۔ اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ'' مجھے صَفْوَان بن مُحْرِزکے بھتیجے کے پاس لے چلو ۔'' سپاہی فوراً مشعلیں لے کر ابن زیاد کے پاس آئے ، ظالم حکمران اپنے سپاہیوں کے ساتھ جیل کی جانب چل دیا ، وہاں پہنچ کر اس نے جیل کے دروازے کھلوائے اور بلند آواز سے کہا: ''صَفْوَان بن مُحْرِزکے بھتیجے کو فوراً رہا کردو، اس کی وجہ سے میں نے ساری رات بے چینی کے عالم میں گزاری ہے۔'' حاکم کی آواز سن کر سپاہیوں نے فوراً صَفْوَان بن مُحْرِزکے بھتیجے کو جیل سے نکالا اور ابنِ زیاد کے سامنے لا کھڑا کیا۔ ابنِ زیاد نے بڑی نرمی سے گفتگو کی اور کہا :''جاؤ! خوشی خوشی اپنے گھر چلے جاؤ، تم پر کسی قسم کا کوئی جرمانہ وغیرہ نہیں ۔'' اتنا کہہ کرابنِ زیاد نے اسے رہا کردیا ۔
Flag Counter