کہا: '' سارا مال یہاں ڈال کراس پر ایک کپڑا ڈال دو۔'' لوگو ں نے تمام درہم وہاں ڈال دیئے ۔
حضرتِ سیِّدَتُنا بَرْزَہ بنت رَافِع رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے فرمایا:'' اس کپڑے کے نیچے اپنا ہاتھ ڈال کر ایک مُٹھی درہموں کی بھر و اور فلاں یتیم کو دے آؤ،ایک مٹھی فلاں غریب کو دے آؤ، ایک مٹھی فلاں رشتہ دار کو دے آؤ۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حکم فرماتی جاتیں اور میں لوگوں میں تقسیم کرتی جاتی ۔ یہاں تک کہ چند درہموں کے علاوہ باقی تمام درہم تقسیم فرمادیئے۔ پھر میں نے عرض کی:''اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی مغفرت فرمائے۔ کیا اس میں ہمارا کچھ حصہ نہیں ؟'' فرمایا: ''ہاں ! جو باقی بچا ہے وہ تمہارے لئے ہے۔''میں نے کپڑا اٹھایا تو اس کے نیچے صرف پچاسی(85)درہم باقی تھے ۔'' پھر اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا زَیْنَب بنت جَحْش رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ہاتھ اٹھا کر اس طرح دعا کی: '' اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! حضرت عمر( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی جانب سے مجھے اس کے بعد کوئی ہدیہ نصیب نہ ہو ۔'' پھر اسی سال آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہوگیا ۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
( اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کروڑوں رحمتیں ہوں مؤمنین کی ان ماؤں پر جنہوں نے ہر حال میں ربِ کریم کا شکر ادا کیا۔ خود بھوک و پیاس برداشت کر کے امت کے غرباء وفقراء کی پریشانیاں دورفرمائیں ۔ انہیں مال ودولت اور دنیوی سازو سامان سے محبت نہ تھی بلکہ وہ تو خالقِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی محبت میں سرشارتھیں ۔ دنیوی مال ودولت کی آمد انہیں خوش نہ کرتی بلکہ اس کی فراوانی ان کے لئے پر یشانی کا باعث بنتی ۔ ان کے پاس جومال آتا اسے فوراََ صدقہ کر دیتیں ۔ یہ سب ہمارے مکی مدنی آقا، مدینے والے مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تربیت وصحبت کا اثر تھا۔ جس طرح آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے کسی امتی کی پریشانی نہیں دیکھی جاتی اسی طرح آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے گھر والے بھی اُمتِ مُسْلِمَہ کو پریشانی میں مبتلا دیکھ کربے قرارہوجاتے۔اِنہیں پاکیزہ ہستیوں کے رحم وکرم سے ہم جیسے گناہ گاروں کا گزارہ ہو رہا ہے۔ ہمارے مکی مدنی آقا، مدینے والے مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہی ہماری ثروث و عزت ہیں ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں ان کے دامنِ کرم سے ہمیشہ ہمیشہ وابستہ رکھے ۔)
؎ ہم غریبوں کے آقا پہ بے حد درود ہم فقیروں کی ثروث پہ لاکھوں سلام
( آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)