ترجمۂ کنزالایمان:اور انہیں ڈراؤ اس نزدیک آنے والی آفت کے دن سے جب دل گلوں کے پاس آجائیں گے غم میں بھرے اور ظالموں کانہ کوئی دوست نہ کوئی سفارشی جس کاکہامانا جائے۔(پ24،المؤمن:18)
جیسے ہی نوجوان نے یہ آیت مکمل کی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' بھلا ظالم کا شفیع ودوست کو ن ہوگا ، کیسے کوئی اس کی شفاعت کریگا جبکہ خود ربُّ الْعٰلَمِین اسے سزا دینا چاہے ۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! بروزِ قیامت ظالموں اور گناہ گاروں کا بہت براحال ہوگا ۔ تُو دیکھے گا کہ انہیں بیڑیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کی طرف کھینچاجائے گا ، وہ ننگے پاؤں ، ننگے بد ن ہونگے ، ان کے چہرے کا لے سیاہ اور آنکھیں نیلی ہوجائیں گی ، وہ پکارتے ہوں گے:'' ہائے ہماری بربادی! ہائے ہماری مصیبت! نہ جانے ہمارے ساتھ کیا ہوگا؟ ہمیں کہا ں لے جایاجارہا ہے؟ ہائے بربادی! ہائے ہلاکت !'' فرشتے انہیں آگ کے گُرزوں سے مارتے ہوئے ہانکیں گے ، ان کے آنسو ان کے چہروں پر بہیں گے اور اتنے بہیں گے کہ ختم ہوجائیں گے۔ پھر وہ خون کے آنسو روئیں گے اور ان کی حالت اُن خوفزدہ پر ندوں کی طر ح ہوگی جنہیں بہت بڑے خوف نے دہشت میں مبتلا کردیا ہو۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اگر تو ان کی اس حالت کو دیکھ لے تو اس ہولناک منظر سے تیری آنکھیں سلامت نہ رہیں تیرا دل پھٹ جائے ، اس منظر کی ہولناکی سے تیرے قدم ایسے لرزیں گے کہ انہیں قرار نہ آئے گا۔''اتنا کہہ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے پھر ایک زور دار چیخ ماری اور کہا:'' ہائے! کتنا برا ہے وہ منظر ہائے !کتنا برا ہے ان کا ٹھکانا!''پھر روتے روتے آپ کی ہچکیاں بندھ گئیں اور وہاں موجود تمام لوگ بھی زاروقطار رو نے لگے ۔''
پھر ایک نوجوان کھڑا ہوا اور کہا :'' اے صالح مُرِّی علیہ رحمۃ اللہ القوی! کیا یہ تمام معاملات قیامت کے دن ہوں گے؟'' فرمایا:''ہاں، میرے بھتیجے !واقعی یہ تمام واقعات بر وزِ قیامت ہوں گے بلکہ وہاں کے حالات کی جو خبر مجھے پہنچی ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو میں نے بیان کی۔ مجھے خبر پہنچی ہے کہ جہنمی نارِ جہنم میں چیختے رہیں گے یہاں تک کہ ان کی آواز ختم ہوجائے گی پھر ان میں سے کوئی بھی ایسا نہ ہوگا جو اس مریض کی طر ح آہیں اور سسکیاں نہ بھرے جسے بر سوں سے شدید بیماری لاحق ہو ۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زبانی جہنم کی ہولناک کہانی سن کر وہ نوجوان اس طر ح گڑ گڑ انے لگا:'' ہائے افسوس ! ہائے میری غفلت! میں نے اپنی زندگی کے قیمتی لمحات ضائع کردیئے۔ اے میرے مالک! میں تیری اطاعت سے غافل رہا مجھے ان کوتاہیوں پر افسوس ہے۔ ہائے !میں نے اپنی زندگی غفلت میں گزار دی۔'' پھر اس نے اپنا منہ جانب ِ قبلہ کیااور روتے ہوئے بارگاہِ خدا وندی عَزَّوَجَلَّ میں اس طر ح مناجات کرنے لگا :