| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
بہت سے بچے جمع ہوگئے تھے ۔ جب میرے والد صاحب گھر تشریف لائے تو ہم سب آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ پڑے ، روتے ہوئے عرض کی:''ابا جان! کیا آپ میری وجہ سے زکوۃ کامال لینے پر مجبور ہو گئے؟'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' بیٹا !تم سے کس نے کہا کہ یہ پھل اوردرہم جو ہمیں بطورِ نذرانہ بھیجے گئے ہیں، زکوۃ کے ہیں؟ اچھا! ابھی اس ٹوکری کو نہ کھولنا، آج رات میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اِستِخارہ کروں گا۔'' دوسرے دن میرے والد صاحب نے مجھے بلایاا ور کہا:'' میں نے رات استخارہ کیا تو یہی حکم ہو اکہ مَیں اس میں سے کوئی چیز بھی نہ لوں۔'' پھر آ پ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ٹوکری کھولی اور سارے پھل بچو ں میں تقسیم کردیئے اور اپنے لئے ایک دانہ بھی نہ رکھا، ٹوکری میں موجود چار ہزار درہم سارے کے سارے واپس لوٹا دیئے اور اپنی ایک چادر بھی اس شخص کو بھجوائی جس نے یہ نذرانہ بھجوایا تھا۔ بعد میں مجھے پتا چلا کہ اس شخص نے میرے والد کی بھجوائی ہوئی وہ چادر اپنے پاس محفوظ رکھی اور وصیت کی کہ مجھے اسی چادر کا کفن دینا ۔ (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر:346 امامِ وقت کے دیدار کی تڑپ
حضرت سیِّدُنازُہَیْربن صالح بن احمد بن حَنْبَل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم فرماتے ہیں: میں نے ا پنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا : ''ایک مرتبہ جب میں گھر آیا تو معلوم ہوا کہ میرے والدِ محترم حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حَنْبَل رحمۃ ا للہ تعالیٰ علیہ بڑی شدت سے میرا انتظار کر رہے تھے، میں فوراً حاضرِ خدمت ہوا اور عرض کی: '' اے میرے والد ِ محترم ! کیا آپ میرا انتظار کر رہے ہیں؟ ''فرمایا :'' ہاں! تمہاری غیر موجودگی میں ایک شخص مجھ سے ملنے آیا تھا، میری خواہش تھی کہ تم بھی اسے دیکھ لیتے لیکن اب تو جا چکا۔ چلو! میں تمہیں اس کے متعلق کچھ بتا دیتا ہوں۔ آج دو پہر کے وقت میں گھر میں تھا کہ دروازے پر کسی کے سلام کرنے کی آواز سنائی دی، میں نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک مسافر تھا جس نے پیوند لگا جُبَّہ پہنا ہو اتھا۔ جُبّے کے نیچے قمیص پہنی ہو ئی تھی ، نہ تواس کے پاس زادِ راہ رکھنے کا تھیلا تھا، نہ پانی پینے کے لئے کوئی برتن۔ سورج کی تیز دھوپ نے اس کا چہرہ جھُلسا دیا تھا۔ میں نے فوراً اسے اندر بلایا اور پوچھا: '' تم کہا ں سے اور کس حاجت کے تحت آئے ہو ۔''
کہنے لگا: '' حضور! میں مشرقی وادیوں سے آیا ہوں ، میری دِلی خواہش تھی کہ اس علاقے میں حاضری دوں، اگر یہاں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مکان نہ ہوتا تو ہرگز یہاں نہ آتا۔ میں صرف آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہوا ہوں ۔'' میں نے کہا :'' تم اتنی شدید گرمی میں