اورمیں اس کی دیکھ بھال کر نے والی تھی ، اگر میں اس کی موت پر صبر کروں تو اجردی جاؤں گی اور اگر گریہ وزاری اور چیخ وپکار کروں تو اس رونے والی کی طرح ہوجاؤں گی جسے اس کے رونے دھونے نے کچھ فائدہ نہ دیا۔''
بڑھیا کی یہ حکمت بھری باتیں سن کر ضعیف العمر شخص نے کہا:'' اب تک تو ہم یہی سنتے آئے ہیں کہ رونا دھونا ، واویلا کرنا عورتوں کی عادت ہے ، لیکن تم تو مردوں سے بھی زیادہ صبر والی ہو، تمہارا صبر عظیم ہے اور عورتوں میں تمہاری نظیر ملنا مشکل ہے۔'' یہ سن کر بڑھیا نے کہا :'' جب بھی کوئی شخص دو چیزوں یعنی صبر وشکر اور جزع فزعْ (یعنی بے صبری) کے درمیان ہو تو اس کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں۔ بہر حال صبر تو ہرحال میں اچھا ہے، وہ ظاہراً حسین اور اس کا انجام محمود ہے۔ جب کہ بے صبری ،اس پر تو کوئی ثواب ہی نہیں ہے ۔اگر صبر و بے صبری انسانی شکل میں ہوتے تو صبر ، حسن و عادات اور دین کے معاملے میں بے صبری سے بدرجہا افضل ہوتا۔ صبر دینی معاملات اور نیکی کے کاموں میں جلدی کرنے والا ہے۔ جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ دولتِ صبر عطا فرمائے اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا وعدہ کافی ہے۔ صبر میں بھلا ہی بھلا اور بے صبری میں نقصان ہی نقصان ہے ۔''
(اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں صبر کی دولت سے مالا مال فرمائے، بے صبری وبے شکری کی نحوست سے محفوظ رکھے۔ راضی برضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ رہنے والااور حرفِ شکایت لب پرنہ لانے والا خوش نصیب ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں صابر وشاکر بنائے ۔)
( آ مین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)