Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
181 - 412
اورمیں اس کی دیکھ بھال کر نے والی تھی ، اگر میں اس کی موت پر صبر کروں تو اجردی جاؤں گی اور اگر گریہ وزاری اور چیخ وپکار کروں تو اس رونے والی کی طرح ہوجاؤں گی جسے اس کے رونے دھونے نے کچھ فائدہ نہ دیا۔'' 

    بڑھیا کی یہ حکمت بھری باتیں سن کر ضعیف العمر شخص نے کہا:'' اب تک تو ہم یہی سنتے آئے ہیں کہ رونا دھونا ، واویلا کرنا عورتوں کی عادت ہے ، لیکن تم تو مردوں سے بھی زیادہ صبر والی ہو، تمہارا صبر عظیم ہے اور عورتوں میں تمہاری نظیر ملنا مشکل ہے۔'' یہ سن کر بڑھیا نے کہا :'' جب بھی کوئی شخص دو چیزوں یعنی صبر وشکر اور جزع فزعْ (یعنی بے صبری) کے درمیان ہو تو اس کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں۔ بہر حال صبر تو ہرحال میں اچھا ہے، وہ ظاہراً حسین اور اس کا انجام محمود ہے۔ جب کہ بے صبری ،اس پر تو کوئی ثواب ہی نہیں ہے ۔اگر صبر و بے صبری انسانی شکل میں ہوتے تو صبر ، حسن و عادات اور دین کے معاملے میں بے صبری سے بدرجہا افضل ہوتا۔ صبر دینی معاملات اور نیکی کے کاموں میں جلدی کرنے والا ہے۔ جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ دولتِ صبر عطا فرمائے اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا وعدہ کافی ہے۔ صبر میں بھلا ہی بھلا اور بے صبری میں نقصان ہی نقصان ہے ۔''

    (اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں صبر کی دولت سے مالا مال فرمائے، بے صبری وبے شکری کی نحوست سے محفوظ رکھے۔ راضی برضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ رہنے والااور حرفِ شکایت لب پرنہ لانے والا خوش نصیب ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں صابر وشاکر بنائے ۔)

( آ مین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر:329             ہائے !میں تونمازپڑھتا تھا
     حضرتِ سیِّدُنا عبیداللہ بن محمدمَدِینِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :'' ہمارے ایک دوست نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں اپنی زرعی زمین کی طرف گیا ، مغرب کا وقت ہو ا تو نمازِ مغرب ادا کی۔ قریب ہی ایک طرف ایک قبر تھی ابھی میں نماز سے فارغ ہو اہی تھا کہ اچانک رونے کی آواز آنے لگی میں نے غور سے سناتو قبر سے یہ درد بھری آواز آئی : ''ہائے! میں تونماز بھی پڑھتا تھا ، میں تو روزے بھی رکھتا تھا۔'' یہ آواز سن کر مجھ پر لرزہ طاری ہوگیا میں نے ایک شخص کو بلایا تو اس نے بھی وہی آواز سنی جو میں سن رہا تھا ۔ پھر میں خوفزدہ ومتعجب ہوا ۔دوسرے دن میں نے پھر اسی مقام پر نمازِ عصر ادا کی، غروبِ آفتاب تک وہیں بیٹھا رہااور نمازِ مغرب ادا کی، قبر سے پھر یہ درد ناک آواز سنائی دی:'' ہائے ! میں تو نماز بھی پڑھتا تھا، میں تو روزے بھی رکھتا تھا۔ '' مسلسل اسی طر ح آوازآتی رہی۔ میں غمگین وپریشان اپنے گھر کی طر ف چلا آیا ، مجھے بخار چڑھ گیا اور دو مہینوں تک اسی میں مبتلا رہا ۔''

    ( اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں تمام گناہوں سے محفوظ رکھے ، نماز روزے کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ گناہوں سے بچنے کی بھی
Flag Counter