Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
180 - 412
عَزَّوَجَلَّ کی قسم! قرآن میں اسی طر ح ہے ۔'' صابرہ خاتون نے کہا:'' تم پر سلامتی ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں خوش رکھے۔'' پھر اس نے نماز پڑھی اور کہا: ''اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن ''بے شک میرا بیٹا عقیل اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پہنچ گیا ہوگا، تین مرتبہ اس نے یہی کلمات کہے پھر اس طرح مُلْتَجِی ہوئی: ''اے میرے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! جیسا تو نے حکم دیا میں نے ویسا ہی کیا اب تو بھی اپنے اس وعدے کو پورا فرما دے جو تو نے کیا ہے ، بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)

    (سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! صبر ہو تو ایسا اور یقین ہو تو ایسا ۔اس خوش بخت ماں نے اپنے جگر کے ٹکڑے، اپنے جوان بیٹے کی موت پر بے وقوف اور جاہل عورتوں کی طرح نوحہ ، چیخ وپکار اور کوئی بھی غیر شرعی کام نہ کیا۔ بلکہ حکمِ خداوندی سن کر نماز ادا کی اور وہی کیا جو حکمِ خداوندی تھا۔وہ خوش نصیب ماں اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی کتنی فرمانبردار تھی۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی مصائب وآلام پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔جو نیک بندے مصیبت میں حرفِ شکایت زبان پر نہیں لاتے اور نہ ہی مصائب سے گھبراتے ہیں ان عاشقان ِرسول کا صدْقہ! اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی دولتِ صبر و شکر سے مالا مال فرما دے۔( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم))

؎ زباں پر شکوۂ رنج والم لایا نہیں کرتے         نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے
حکایت نمبر328:                 درسِ صبر وشکر
    حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن علیہ رحمۃ اللہ المنّان اپنے چچا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ'' ایک بوڑھی عورت جو جنگل میں چراگاہ کے قریب رہتی تھی اس کے متعلق مجھے ایک شخص نے بتایا کہ وہ بڑھیا بہت عقل مند اور صابرہ وشاکرہ تھی ۔ لوگ اس کے صبر وشکر اور دانائی کی مثالیں دیا کرتے تھے۔ اس کا ایک بیٹا تھا جو انتہائی وجیہہ و خوبصورت تھاکافی عرصہ بیمار رہا، بوڑھی ماں نے بہت اچھے طریقے سے اس کی تیمارداری کی۔عرصۂ دارز تک بسترِ َعلالت پر اپنے زندگی کے ایام گزارنے کے بعد بالآخر اس کانوجوان جمیل وشکیل اکلوتا بیٹا اس دارِ فنا سے دارِ بقا کی طرف کوچ کر گیا۔ اس کی موت کے بعد بڑھیا اپنے گھر کے صحن میں بیٹھی ہوئی تھی ۔ لوگ تعزیت کے لئے آئے تو بڑھیا نے ایک ضعیف العمر شخص سے کہا:'' کتنا اچھا ہے وہ خوش بخت جس نے عافیت کا لباس پہن لیا، جس پر نعمتوں کا رنگ چڑھ گیا، جسے ایسی فطرت عطا کی گئی کہ جب تک وہ اپنے مسائل حل نہ کرلے اسے تو فیق وہمت دی جاتی رہے۔ پھر بڑھیا نے دوعربی اشعار پڑھے جن کا مفہوم یہ ہے:

     '' وہ میرا بیٹا تھا مجھے معلوم نہیں کہ اس کی وجہ سے مجھے کتنا اجر ملا، میری مدد اس کے لئے یہ تھی کہ میں نے اس کی پرورش کی
Flag Counter