Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
171 - 412
     '' انہیں خوبصورت و بیش بہا جنتی لباس پہنایا گیا ۔ جنَّتی خدَّام ہاتھوں میں آبخورے لئے ہر وقت ان کے ارد گر د موجود رہتے ہیں ۔پھر انہیں جنتی زیور سے آراستہ کیا گیا اور کہا گیا :'' اے قاری!تلاوت کر، بخدا تجھے تیرے روزوں نے چھٹکارا دلا دیا۔''

    راوی کہتے ہیں کہ'' حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ بن زَا ذَان علیہ رحمۃ اللہ المنّان آخری عمر تک اس کثرت سے روزے رکھتے رہے کہ آپ کی کمر بالکل جھک گئی اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی آواز بند ہوگئی ۔ ان کی یہ عبادت وریاضت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں ایسی مقبول ہوئی کہ مغفرت وبخشش کا سبب بن گئی۔'' 

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)

    (میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے اسلاف رحمہم اللہ تعالیٰ فرائض کی ادا ئیگی کے ساتھ ساتھ نفلی عبادت کابھی خوب اہتمام کرتے تھے۔ جیسا کہ ہم نے ابھی حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ بن زَاذَان علیہ رحمۃ اللہ المنّان کے بارے میں پڑھا کہ وہ کثرت سے نفلی روزے رکھا کرتے تھے ۔ ہمیں بھی چاہے کہ وقتاََ فوقتاََ نفلی روزے رکھ کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا طلب کریں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اعمالِ صالحہ کی توفیق عطا فرمائے، اپنی رضا والے کاموں پر گامزن فرمائے اورہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔ اگر ہم چند روزہ زندگی میں تھوڑی سے مشقت برداشت کر کے فرض عبادت کے ساتھ ساتھ نفلی عبادت پر بھی مواظبت (''مُوَا۔ظَ۔بَت''یعنی ہمیشگی ) اختیارکرتے رہے تو اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ جنت میں خدا ئے بزرگ وبَر تر کی طرف سے ہماری مہمانی کی جائے گی۔ جن خوش نصیبوں کے لئے'' نُزُلًامِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْم''(پ۲۴،حٰمۤ السجدۃ۳۲)ترجمۂ کنز الایمان :مہمانی بخشنے والے مہربان کی طرف سے۔کا مژدۂ جانفزا 

سنایا گیا اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی ان میں شامل فرمائے ۔ ہم بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے امید لگائے اس یومِ عید کے منتظر ہیں ۔ 

یااللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں جنت الفردو س میں اپنے پیارے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا پڑوس عطا فرما۔( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم))

 ؎ گدا بھی منتظر ہے خُلْد میں نیکوں کی دعوت کا 		خدا دن خیر سے لائے سخی کے گھر ضیافت کا
حکایت نمبر:324                 گائے پر ٹیکس
    حضرتِ سیِّدُنا ہِشَام بن مُحَمَّد بن سَائِبِ کَلْبِی علیہ رحمۃ اللہ القوی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں: ''ایک مرتبہ شاہِ فارس (یعنی ایران کا بادشاہ )اپنے چند ہمراہیوں کے ساتھ شکار کے لئے نکلا۔گھنے جنگل میں اچانک ایک شکار نظر آیا ، بادشاہ نے گھوڑا شکار کے پیچھے لگادیا کافی دور تک پیچھا کرنے کے باوجو دبادشاہ اس جانورکا شکار کرنے میں ناکام رہا۔ وہ جانور کے پیچھے اتنی تیز ی سے آیا کہ
Flag Counter