Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
170 - 412
آئیں او رپوچھا: میرے پاس دو دانق(یعنی درہم کاچھٹا حصہ) تھے میں نے ان کا اون خرید کر کا تا اور نصف درہم کا بیچ دیا۔ میرا کھانے پینے کا پورے ہفتے کا خرچ ایک دانق ہے۔ ہوا یوں کہ حاکم شہر ابن طاہر ہمارے گھر کے قریب سے گزرا اس کے ساتھ مشعلیں بھی تھیں۔ ہمارے گھر کے قریب کھڑا ہو کر وہ چند کا رندوں سے گفتگو کرنے لگا ۔ میں نے ان مشعلوں کی روشنی میں کچھ اون کا ت لیا تھا۔ جب حاکم وہاں سے چلا گیا تومیرے دل میں یہ خیال آیا کہ ''حاکمِ شہر کی مشعلوں کی روشنی میں کاتی ہوئی اُون کا حساب دینا ہو گا۔'' بس اس خیال کے آتے ہی میں پریشان ہوگئی، اب آپ کے پاس اپنا مسئلہ لے کر آئی ہوں مجھے اس پریشانی سے نجات دلائیں، اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی پریشانی دور فرمائے۔ مجھے بتائیں کہ اب میں اس اون کی قیمت کا کیا کرو ں ۔'' میرے والد ِ محترم نے فرمایا: ''تم دودانق رکھ لو اور نفع چھوڑ دو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس نفع کے بدلے تمہیں اچھا بدلہ عطا فرمائے گا۔ یہ سن کر وہ چلی گئی۔'' 

    میں نے اپنے والد ِ محترم سے کہا:'' حضور! اگر آپ اسے یہ کہہ دیتے کہ اس روشنی میں جتنا اون کاتا وہ علیحدہ کرلو، باقی اُون تمہارے لئے جائز ہے تو کیا حرج تھا۔'' فرمایا:'' بیٹے! اس خاتون کا سوال اس تاویل کا احتمال نہیں رکھتا تھا۔ پھر فرمایا: ''تم جانتے ہو، وہ کون تھی؟'' میں نے کہا: ''ہاں! وہ زمانے کے مشہور ولی حضرتِ سیِّدُنا بِشْرِ حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی ہمشیرہ '' مُخَّہ'' تھی۔'' فرمایا:'' جبھی تو وہ یہ مسئلہ پوچھنے آئی تھی ۔ واقعی ایسی عظمت وشان والی عورت بِشْر جیسے ولی کی بہن ہی ہو سکتی ہے ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر:323         حضرتِ عیسیٰ بن زَاذَان علیہ رحمۃ الرحمن کی بخشش
    حضرت سیِّدُنا عَمَّار بن رَاہِب علیہ رحمۃ اللہ الغالب سے منقول ہے کہ'' حضرت سیِّدَتُنا مِسکینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا اجتماعِ ذکر میں پابندی سے شرکت کیا کرتی تھیں ۔ان کے انتقال کے بعد میں نے انہیں خواب میں دیکھا تو کہا : ''اے مسکینہ! مرحبا۔'' مسکینہ نے کہا :''اے عمّار! تمہارا بھلا ہو، میں مسکین نہیں اب تو بہت زیادہ غِنٰی مل چکا ہے، محتاجی ختم ہو گئی اور کشادگی آ چکی ہے۔'' میں نے کہا : '' اچھا! ان باتوں کو چھوڑو اپنا حال بیان کرو ، تمہیں کیا کیا نعمتیں عطا کی گئیں ؟''مسکینہ نے کہا: ''تم اُس سے سوال کررہے ہو جسے جنت اپنی کثیر نعمتوں کے ساتھ عطا کردی گئی ہے۔ اب وہ جہاں چاہے جنت کے درختوں کے سائے میں رہے۔'' حضرت سیِّدُنا عَمَّار علیہ رحمۃ اللہ الغفار کا بیان ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی یہ نیک بندی ہمارے ساتھ حضرتِ سیِّدُناعیسیٰ بن زَاذَان علیہ رحمہ اللہ المنّان کی محفلِ ذکر میں حاضرہوا کرتی تھی۔ میں نے پوچھا:'' اے مسکینہ! حضرت سیِّدُنا عیسیٰ بن زَاذَانعلیہ رحمۃ اللہ المنّان کے ساتھ کیا معاملہ کیا گیا ؟'' یہ سن کر وہ ہنسنے لگی اوردو عربی اشعار پڑھے جن کا مفہوم یہ ہے:
Flag Counter