Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
136 - 412
 حاجب(یعنی دربان) نے اس سے کہا :'' عدالت کے اصولوں میں سے ہے کہ فریقین ایک ساتھ کھڑے ہوں لہٰذا آپ بھی اپنے مدِّمقابل کے پاس اسی جگہ چلے جائیں جہاں وہ کھڑا ہے ۔''

    حاجب کی بات کا اس نے کوئی جواب نہ دیا اور وہیں بیٹھا رہا ، خلیفہ کا خاص غلام ہو کرفیصلے کے لئے ایک عام آدمی کے ساتھ کھڑا ہونا اس کے نفس نے گوارا نہ کیا۔ اس کی اس حرکت پر میرے والد کو بہت غصہ آیا ، انہوں نے پکار کر کہا:'' تیری یہ جرأت کیسے ہوئی، تجھے تیرے فریقِ مخالف کے ساتھ کھڑے ہونے کو کہا جارہا ہے اور تو انکار کر رہا ہے؟ اے خادم! کا غذ لاؤ تا کہ میں اس شخص کو عمرو بن ابوعمر کے ہاتھوں بیچ دو ں اور اسے لکھ دو ں کہ اس کی قیمت خلیفہ کو بھجوا دو ۔پھرحاجب کوحکم دیاکہ اس کا ہاتھ پکڑکر اٹھاؤ اور دونوں فریقوں کو برابرکھڑاکردو۔''حاجب نے اسے زبردستی اٹھایااورفریقِ ثانی کے ساتھ کھڑا کر دیا۔جب مجلس قضاء برخاست ہوئی تو وہ غلام خلیفہ کے پاس جاکر رونے لگا ۔ خلیفہ نے وجہ پوچھی تو کہا: ''حضور! قاضی صاحب نے آج میری بہت بے عزتی کی اور مجھے ایک گھٹیا شخص کے ساتھ کھڑا کر دیاحا لانکہ میں آپ کا خاص خادم ہوں، میری ایک عام آدمی سے کیا برابری؟

     خلیفہ نے غضب ناک ہو کر کہا :'' اگر قاضی صاحب تجھے بیچ دیتے تو میں اس بیع کونافذ رکھتا اور کبھی بھی تجھے اپنے پاس نہ بلاتا۔ میرے ہاں تیرا خاص مقام ہونا عدل وانصاف کے لئے آڑنہیں بن سکتا ۔بے شک عدل وانصاف سلطانوں کے لئے مضبوط ستون اور دین کے لئے بہترین سہارا ہے، قاضی صاحب نے جو کیا دُرست کیا ۔''

    اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر مسلمان کو حق گوئی اور حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے ۔( آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
حکایت نمبر307:             ا سمِ اعظم کے مُتَمَنِّی کا امتحان
    حضرتِ سیِّدُنا یوسف بن حسن رازی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں:''مجھے بتایا گیا کہ حضرت سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی '' اسمِ اعظم'' جانتے ہیں۔ چنانچہ، میں مصر کی طر ف روانہ ہوا۔ سفر کی صعوبتیں بر داشت کرتا ہوا بالآخر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ میری داڑھی کا فی بڑھی ہوئی تھی۔ ایک بڑا ساپیالہ میرے پاس تھا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک نظر میری طرف دیکھا پھردوسری طرف متوجہ ہوگئے پھر میری طرف بالکل التفات نہ فرمایا ۔ میں بھی آس لگائے بیٹھا رہا کہ کبھی نہ کبھی تو نظرِ کرم ضرور فرمائیں گے ، اسی آس میں کافی دن گزر گئے۔

     ایک دن ایک تیز طراز چرب زبان شخص جو علمِ کلام میں ماہر تھا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس آیا اور مناظرہ کر نے لگا۔ آپ
Flag Counter