Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
135 - 412
بد عمل بڈھے !'' اگرتیرے بال سفید نہ ہوتے تو میں تجھے ضرور آگ میں جلاتا۔ ''یہ فرمان سن کر میری کیفیت وہ ہوگئی جو ایک مجرم کی اپنے آقا کے سامنے ہوتی ہے، میں بری طر ح کانپنے لگا۔ جب افاقہ ہوا تو دوبارہ ارشاد ہوا:'' اے بد عمل بڈھے! تو سفید ریش نہ ہوتا تو میں ضرورتجھے آ گ میں جلاتا۔''مجھ پرپھرہیبت طاری ہوگئی اور میں بری طر ح کانپنے لگا۔ جب حالت کچھ سنبھلی تو تیسری مرتبہ پھر اسی طر ح فرمایا ۔ میں نے بارگاہ ِخدواندی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی:'' اے میرے خالق ومالک ! اے رحیم و کریم ! اے عفو ودرگزر فرمانے والے !میں نے عبدالرزاق بن ہمام سے، انہوں نے مَعْمَربن راشدسے، انہوں نے ابنِ شِہَاب زُہْرِی سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انہوں نے تیرے نبئ مُکرَّم ،نورِمُُجسّم، رسولِ محتشم ،شافعِ اُمم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے اور انہوں نے جبرائیلِ امین علیہ السلام سے تیرایہ فرمان سنا :'' میراوہ بندہ جسے اسلام میں پڑھاپاآئے ،اسے جہنم کا عذاب دینے سے مجھے حیا آتی ہے ۔'' تو میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا: '' عبدالرزاق ، مَعْمَر ، زُہْرِی اور اَنس سب نے سچ کہا،میرے نبی نے سچ کہا، جبریل نے سچ کہا اور میرا قول سچا ہے، اے فرشتو ! اسے جنت میں لے جاؤ ۔''

(اللآلئُ المصنوعۃ فی الأحادیث الموضوعۃ،کتاب المبتداء،ج۱،ص۱۲۵) 

    ایک روایت میں اس طر ح ہے، قاضی یحیی بن اَکْثَم سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا: ''اے بوڑھے! تیرے لئے برائی ہے۔'' عرض کی: '' اے میرے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ! تیرے نبئ بر حق صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ''تو اس بات سے حیاء کرتا ہے کہ اَسّی (80) سال والے بوڑھوں کو عذاب دے۔ (الجامع الصغیر، الحدیث۱۸۹۱،ص۱۱۶،مفہومًا)اے میرے خالق! میں بھی اَسّی سال دنیا میں گزار کرآیا ہوں، مجھ پر بھی کرم فرمادے۔'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا: ''میرے نبئ آخر الزماں نے سچ فرمایا ہے، جا! ہم نے تجھے بخش دیا۔''

؎ ہر خطا تُو درگزر کر بیکس ومجبور کی		یا الٰہی مغفر ت کر بیکس ومجبور کی 

( آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
حکایت نمبر306:             د ِین کے لئے بہترین سہارا
    قاضی ابو عمر محمد بن یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے، ایک مرتبہ میرے والد ِ محترم لوگو ں کے فیصلے کر رہے تھے۔ اتنے میں خلیفہ مُعْتَضِدْ بِاللہ کا خاص غلام فیصلہ کروانے کے لئے فریقِ مخالف کے ساتھ کمرۂ عدالت میں داخل ہوا اس کاکسی معاملہ میں ایک شخص کے ساتھ جھگڑاہوگیاتھا وہ اپنے مخالف فریق کے ساتھ کھڑا ہونے کے بجائے خاص لوگو ں کی نشست پر جا بیٹھا۔
Flag Counter