Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
131 - 412
کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطافرمائے۔اور ان کی برکت سے ہمارے مصائب وآلام دُور فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

؎ دعائے ولی میں یہ تاثیر دیکھی 		بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی
حکایت نمبر302:         ا مامِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی نگاہِ بصیرت
    کروڑوں حنفیوں کے عظیم پیشوا،سراج الاُمّہ ،کاشف الغُمَّہ حضرتِ سیِّدُناامامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے شاگردِ رشید حضرت سیِّدُنا امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم بن حبیب علیہ رحمۃا اللہ الحسیب اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ''ابھی میں چھوٹاساتھاکہ میرے سرسے باپ کاسایہ اُٹھ گیا۔ گھریلو حالات سازگار نہ تھے۔ میری والدہ نے مجھے ایک دھوبی کے پاس بھیج دیا تاکہ وہاں کام کروں اورجو اجرت ملے اس سے گھر کا خرچہ چلتا رہے ۔ میں وہاں جاتا اورکام کرتا ۔ میں ایک مرتبہ علم وعمل کے روشن چراغ حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حلقہ درس میں بیٹھ گیا۔ مجھے ان کی باتیں بہت پسند آئیں۔ چنانچہ، میں نے دھوبی کے پاس جانا چھوڑ دیا اوراس حلقۂ درس میں شریک ہونے لگا۔ میری والدہ کو معلوم ہوا تو مجھے وہاں سے لے گئی اوردھوبی کے پاس چھوڑدیا۔ میں چھُپ چھُپ کر امام صاحب کی بارگاہ میں حاضر ہوتا جیسے ہی میری والدہ کو معلوم ہوتا مجھے وہاں سے اٹھا کر دھوبی کے پاس لے جاتی۔ حضرتِ سیِّدُناامامِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم میرا شوقِ علمی دیکھ کر میری طرف خاص توجہ فرماتے۔ 

    جب معاملہ بڑھا تو ایک دن میری والدہ استاذِ محترم حضرت سیِّدُناامامِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کے پاس آئی اور کہا: ''میرے اس بچے کو آپ نے بگاڑ دیا ہے ۔ یہ بچہ یتیم ہے۔کوئی ایسا نہیں جو اس کی پرورش کرے ۔ میں سارا دن سُوت کاتتی ہوں جو اُجرت ملتی ہے اس سے اس کی پرورش کرتی ہوں ۔ اس امید پر کہ یہ بڑا ہوجائے اورکچھ کما کر لائے ۔ اسی لئے میں نے اسے دھوبی کے پاس بھیجا تھا کہ اس طرح کچھ نہ کچھ رقم مل جایا کرے گی اورہمارا گزارہ ہوتارہے گا۔اب یہ سب کچھ چھوڑ کر آپ کے پاس آبیٹھتا ہے ۔ ''

    میری والدہ کی یہ باتیں سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا'' اے خوش بخت!اپنے اس بچے کو علم کی دولت حاصل کرنے دے ، وہ دن دور نہیں کہ یہ باداموں اوردیسی گھی کا حلوہ اورعمدہ فالودہ کھائے گا۔'' یہ سن کر میری والدہ بہت ناراض ہوئی اور کہا: ''لگتاہے بڑھاپے کی وجہ سے آپ کا دماغ چل گیاہے، ہم جیسے غریب لوگ باداموں اوردیسی گھی کا حلوہ کیسے کھاسکتے ہیں؟'' یہ کہہ کر میری والدہ گھر چلی آئی ۔ میں حضرتِ سیِّدُنا امام اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی بارگاہ میں حاضر رہ کر علمِ دین سیکھتا رہا۔ آپ رحمۃ اللہ
Flag Counter