Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
119 - 412
تخت نشین ہوا اس کا انتقال ہوگیا۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :''اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر رحم فرمائے ، جس طر ح اسے موت آئی اسی طرح ہر ذی روح کو موت آئے گی۔جس نے خوشیوں کا گنج پایا وہ موت کے رنج سے بھی دو چار ہوگا۔ اب یہ بتاؤ تم کیا چاہتے ہو اور یہاں کیوں آئے ہو؟'' کہا :'' میرے آقا! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بعد جب تخت نشین شیخ کا انتقال ہوگیا توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سارے غلاموں نے جو چاہا وہ کیا، تمام شاہی چیزیں لوگو ں نے آپس میں تقسیم کرلیں۔میں نے بھی بہت سی چیزیں لے لیں،یہ تمام چیزیں جو میرے پاس ہیں سب آپ کی ہیں او رمیں بھی آپ کا بھاگا ہوا غلام ہوں ۔ اب معافی طلب کرنے آیا ہوں ، میں نے علماء کرام علیہم رحمۃاللہ المنان سے اپنے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا:'' جب تک تم اپنے آقا کے پاس واپس نہ جاؤگے اس وقت تک تمہارے اعمال قبول نہ ہوں گے تم مال و متا ع لے کر اپنے آقا کے پاس جاؤ وہ جس طرح چاہے تمہارے ساتھ معاملہ کرے۔'' میرے آقا! اب میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے حاضر ہوں، میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ فرمائیں ۔''

     حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَ دْہَم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم نے فرمایا :'' اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو میں نے تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کی خاطر آزاد کیا۔اور جو کچھ مال ومتاع تمہارے پاس ہے وہ سب تمہیں دیا ، اب جہاں چاہو یہ مال خرچ کرو ۔جاؤ! یہ سارامال تمہیں مُبَارَک ہو۔'' پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے دوست کی طر ف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ''جاؤ ! کسی کے پاس یہ کتابیں رہن رکھ کر قرض لو اور کھانے کے لئے کچھ خرید لاؤ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

    ( سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! صد ہزار آفریں ان مُبَارَک ہستیوں پر جنہوں نے خدائے بزرگ وبَر تر کی رضا کے لئے شاہی شان وشوکت، محلات وباغات، غِلمان وخُدّام اور دنیوی زیب وزینت کو ٹھکرا کر سادگی وعاجزی اختیار کی۔ بھوک وپیاس کی مصیبتیں ہنس کر برداشت کیں ، کبھی بھی حرفِ شکایت لب پر نہ لائے اورر زقِ حلال کی خاطر محنت مزدوری کی۔یقینا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کی قدر جان لی۔ ان پر دنیا کی حقیقت آشْکار ہوچکی تھی کہ دنیا بے وفاہے اس کی نعمتیں زوال پذیر ہیں۔ان عارضی لذتوں کی خاطر دائمی خوشیوں کو نظر انداز کر دینا عقل مندوں کا کام نہیں۔ سمجھدار وہی ہیں جو باقی رہنے والی خوشیوں کو فانی خوشیوں پر تر جیح دیتے ہیں اور دُنیوی مصائب و تکالیف کو صبر و شکر کے ساتھ برداشت کرتے ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ان پاکیزہ ہستیوں کے صَدْقے ہمیں بھی ا عمالِ صالحہ پر استقامت عطا فرمائے۔ ہر حال میں اپنی رضا پر راضی رہنے کی تو فیق عطا فرمائے ۔ بے صبری وناشکر ی سے بچا کر صبر وشکر کی دولت سے مالا مال فرمائے۔

     ہر شخص کو چاہے کہ ہر آنے والی مصیبت پر صبر کر کے اجر کا مستحق ہو۔ مصائب وآلام کے ذریعے ہمیں آزمایا جاتا ہے اور مردانگی یہی ہے کہ امتحان وآزمائش آ جائے تو منہ نہ پھیرا جائے بلکہ خوش دِلی سے آزمائشوں سے نمٹا جائے ۔ مصیبت خود نہ مانگی