Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
118 - 412
تھے۔حضرتِ سیِّدُنا عمیر بن عبدالباقی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے ہاں آپ اورآپ کے ایک دوست نے مزدوری کی اور بیس دینار کمائے۔ حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَ دْہَم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم نے اپنے رفیق سے کہا: '' آؤ، ہم حلق کروا لیں(یعنی سر منڈوا لیں)۔'' چنانچہ، دونوں حجام کے پاس آئے، حجام نے انہیں کوئی وقعت نہ دی اور بڑے تحقیر آمیز لہجے میں کہا: '' تم لوگوں سے زیادہ ناپسندیدہ میرے نزدیک دُنیا بھر میں کوئی نہیں، کیا میرے علاوہ کوئی اور شخص تمہیں نہ ملا جو تمہاری خدمت کرتا ۔''یہ کہہ کر وہ دوسرے گاہکوں میں مصروف ہوگیا۔ آپ کے رفیق کو حجام کا ذِلت آمیز لہجہ بہت برا لگا تھا اس لئے اس نے حلق کروانے سے انکار کردیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خاموشی سے بیٹھے رہے۔ جب سب لوگ چلے گئے توحجام نے نفرت بھرے لہجے میں کہا: '' تم کیا چاہتے ہو؟'' فرمایا: ''میں اپنا حلق کروانا چاہتا ہوں۔''

    حجام نے بڑی حقارت سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا حلق کیا۔خدا عَزَّوَجَلَّ کی شان کہ دو ٹَکے کا حجام بھی آج اس مرد ِقلندر کو دُرویشانہ لباس میں دیکھ کر حقارت بھری نظر وں سے دیکھ رہا تھا جس نے اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی رضا کی خاطر سلطنت، شان وشوکت ، شاہی محلات اور زَر وزمین سب کچھ ٹھکرادیا تھا ۔ کسی نے درست کہاہے کہ موتی کی قدر جوہری ہی جانتا ہے ۔ وہ نادان حجام اس گوہرِبے بَہا کی قدر نہ جان سکا۔ بہر حال جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حلق کروالیا تو اپنے رفیق سے کہا :'' جو بیس دینار تمہارے پاس ہیں وہ سب اس حجام کو دے دو۔'' اس نے کہا:'' حضور !یہ آپ کیا فرما رہے ہیں ؟ اتنی شدید گرمی میں خون پسینہ ایک کر کے آ پ نے مزدوری کی پھر یہ رقم ملی ، اب اس حجام کو اتنی بڑی رقم دے رہے ہیں۔'' فرمایا:''یہ رقم اس حجام کو دے دو تا کہ پھر کبھی یہ کسی درویش کو حقیر نہ جانے۔'' آپ کے رفیق نے ساری رقم حجام کو دے دی۔پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ'' طَرَسُوْس '' کی طرف لوٹ آئے ۔ صبح ہوئی تو اپنے دوست سے فرمایا :'' یہ چند کتابیں کسی کے پاس رہن رکھ کر قرض لو اور کھانے کے لئے کچھ خرید لاؤ۔'' آپ کا دوست حسبِ ارشادکتابیں لے کربازار کی جانب چل دیا۔ راستے میں ایک شخص کو دیکھا جو بڑی شان وشوکت سے خیمہ لگائے بیٹھاتھا ۔ اس کے سامنے غلے کا ڈھیر ، قیمتی گھوڑے ، خچر اور ایسے بڑے بڑے صندوق تھے ، جن میں ساٹھ ہزار سے زیادہ دینارہوں گے۔وہ شخص اس طرح صدائیں بلندکر رہا تھا، ''ان تمام چیزوں کا مالک سفیدی مائل سرخ رنگت والا شخص ہے جو ابراہیم بن اَدْہَم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم کے نام سے مشہور ہے۔ کوئی ہے جو مجھے اس کے متعلق بتائے۔'' یہ اعلان سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا دوست اس شخص کے پاس گیا اور کہا: '' جسے تم ڈھونڈ رہے ہو وہ ایسی شہرت وثروت کو پسند نہیں کرتا ، آؤ، میں تمہیں اس کے پاس لے چلتا ہوں۔''

     وہ دونوں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَ دْہَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کے پاس آئے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو مزدوروں کے لباس میں دیکھ کر وہ شخص ہکاّ بکاّرہ گیا ،ہا تھ جوڑکر عرض کی: میرے آقا! میرے سردار! خُرَاسَان کی سلطنت چھوڑ کر آپ اس حالت کو پہنچ گئے ہیں؟'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :'' ان باتوں کو چھوڑ و اور یہ بتاؤ، تمہارا معاملہ کیا ہے ؟'' کہا :'' حضور! آپ کے بعد جو شخص