Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
116 - 412
اور بآوازِ بلند خلیفہ کو سلام کیا: ''خلیفہ نے یحیی بن اَکْثَم کی طر ف دیکھا: یحیی نے عورت سے کہا:'' بتا ؤ، تمہارامسئلہ کیا ہے؟'' عورت نے کہا: ''اے خلیفہ! مجھ سے میری زمین ظلماً چھین لی گئی ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا میرا کوئی حامی وناصر نہیں۔'' یہ سن کر یحیی بن اَکْثَم نے کہا: '' ابھی تَو دربار کا وقت ختم ہوچکا ہے ، جمعرات کو آجانا۔''

     عورت واپس چلی گئی، مجلسِ قضاء برخاست کر دی گئی، جمعرات کو خلیفۂ و قت فیصلہ کرنے تخت پر بیٹھا اور کہا: ''آج سب سے پہلے اس عورت کی فریاد سنی جائے گی، وہ عورت کہاں ہے؟'' عورت کو لایا گیا تو خلیفہ نے کہا: ''بتاؤ، تمہارا کیا معاملہ ہے؟ تم پر کس نے ظلم کیا؟ ا پنے مدِّمقابل کو سامنے لاؤ۔'' عورت نے خلیفہ کے بیٹے عباس کی طر ف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ''میرا دعویٰ اسی پر ہے اور یہی میرا مدمقابل ہے۔'' خلیفہ نے احمد بن ابوخالد کو حکم دِیا کہ عباس کا ہاتھ پکڑ کر اس عورت کے ساتھ کھڑا کر دو۔'' حکم کی تعمیل ہوئی اور خلیفہ ئوقت کے شہزادے کو مجرموں کی طر ح اس عورت کے ساتھ کھڑا کر دیا گیا۔ عباس کے خلاف بیان دیتے ہوئے عورت کی آواز بلند ہونے لگی۔ جبکہ عباس دبی دبی آواز میں بات کر رہا تھا۔ جب عورت کی آواز مزید بلند ہوئی تو احمد بن ابو خالد نے کہا :'' محترمہ اپنی آواز پست کرو تمہیں معلوم نہیں کہ اس وقت تم خلیفۂ وقت کے سامنے موجود ہو، دربارِ شاہی میں اتنی بلند آواز سے بات کرنا بہت ناز یبا ہے۔''

    خلیفہ مامون الرشید نے کہا :'' اسے بولنے دو! بے شک اِس کی سچائی نے اِس کی آواز بلند کردی ہے اور عباس کے جرم نے اُس کو گو نگا کردیا ہے۔ کافی دیر تک عباس اور اس عورت کا مُکَالَمَہ ہوتا رہا۔ بالآخر خلیفہ نے حکم دیا کہ اس عورت کی زمین اسے واپس لوٹا دی جائے اور اس عورت کو دس ہزار درہم دیئے جائیں۔ یہ فیصلہ سن کر وہ مظلومہ خوشی خوشی اپنے گھر چلی گئی۔
حکا یت نمبر291:            ہم خود کو کھلاتے تو یہ مچھلی نہ نکلتی
    حضرتِ سیِّدُناعمر بَزَّار علیہ رحمۃ اللہ الغفار سے منقول ہے کہ'' میں نے منصور ماہی گیر کو یہ کہتے ہوئے سنا :'' ایک مرتبہ عید کے دن جب میں مچھلیا ں پکڑنے جارہا تھا توراستے میں حضرتِ سیِّدُنا بِشْر بن حَارِث حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی سے ملاقات ہوئی وہ عید کی نماز پڑھ کر آرہے تھے ۔ مجھے دیکھ کرپوچھا: آج عید کے دن بھی تم مچھلیا ں پکڑنے جارہے ہو؟ میں نے کہا : ''حضور! کیا کرو ں ہمارے گھر مُٹھِّی بھر آٹا بھی نہیں اور نہ ہی کوئی اور ایسی چیز ہے جسے پکا کر بھوک مٹائی جاسکے۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''گھبراؤ مت! بے شک ہمارا پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ مدد فرمانے والا ہے ، چلو اپنا جال اٹھاؤ ، میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔'' میں جال اُٹھا کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ چل دیا۔ دریا پر پہنچ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :'' اے منصور علیہ رحمۃ اللہ الغفور ! وضو
Flag Counter