Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
115 - 412
رہا ہے ۔ زندگی کی مدت کم ہوتی جا رہی ہے ، زندگی کے قلعہ کو وقت کی ضربیں کمزور کر رہی ہیں ، جانے والے جارہے ہیں، نئے لوگ آرہے ہیں ۔بے شک دن اور رات بڑی تیزی سے واپسی کے لئے پَر تول رہے ہیں ۔ جو پیش قدمی کا مظاہر ہ کریگا وہ زندگی کی دوڑ میں کامیاب ہوجائے گا اور جو زندگی کے دنوں کو گننے میں لگا رہا اوربیٹھے بیٹھے سوچتا رہاوہ یقینا ناکام ہو جائے گا۔

     سمجھ دار انسان اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا، اپنے آپ کو نصیحت کرتا اوراپنی توبہ پر ثابت قدم رہتا ہے۔ اپنی خواہشات کے دھارے میں نہیں بہتا بلکہ ان پر غالب رہتا ہے۔بے شک انسان کی موت اس سے پوشیدہ ہے ، لمبی لمبی امیدیں اسے دھوکے میں رکھے ہوئے ہیں ۔ شیطان ہر دم انسان کے ساتھ رہتاہے،اسے توبہ کی اُمید دِلا کر معصیت میں مبتلا کردیتا ہے۔ پھر اسے توبہ بھی نہیں کرنے دیتااوراس طرح ٹال مٹَول کرواتا رہتا ہے کہ کل توبہ کرلینا، فلاں وقت کرلینا اس طر ح کی کھوکھلی امیدوں میں اسے جکڑے رکھتاہے ۔ گناہ کو آراستہ کرکے پیش کرتا ہے تا کہ انسا ن گناہوں پر دلیر ہوجائے حالانکہ موت اس پر اچانک چھا جائے گی۔ پھر سوائے حسرت کے کچھ نہ ہوگا۔ انسان کو موت کی طر ف سے بے خبری نے غافل کررکھاہے۔

     اے لوگو ! تمہارے اور جنت یا دوزخ کے درمیان صرف موت کی دیوار آڑ ہے۔ جیسے ہی یہ دیوار گری غافل انسان کف ِ افسوس ملتا رہ جائے گا ۔ پھر تمنا کریگا کہ کاش! کچھ وقت مہلت مل جائے ، لیکن پھر یہ خواہش کبھی پوری نہ ہوگی۔ اب انسان سمجھ جائے گا کہ وقت کے ضیاع نے اسے ناکامی کی طر ف دھکیل دیا۔

    ( اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ان لوگو ں میں سے نہ بنائے جو دنیوی نعمتوں کے بل بوتے پر اکڑ جاتے اور مغرور سرکش ہوجاتے ہیں ، بلکہ ان لوگوں میں سے بنائے جو نعمتوں پر مغرور نہیں ہوتے، اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی نہیں کر تے، جنہیں موت کے بعد حسر ت وافسوس نہیں ہوتا ۔ اے ہمارے خالق عَزَّوَجَلَّ! ہماری دعاؤں کو قبول فرما، بے شک تو دعا ؤں کو قبول فرمانے والا، بہت مہربان ہے ! اے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ! ہماری خالی جھولیاں گوہرِ مرادسے بھردے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
حکایت نمبر290:         مامون الرشید کا عدل وانصاف
    قَحْطَبَہ بن حمید بن حسین کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں خلیفہ مامون الرشید کے دربار میں تھا ۔ خلیفہ مظلوموں کی فریاد سن کر انہیں ظالموں سے بدلہ دلوارہا تھا۔ لوگ اپنے اپنے مسائل حل کرو ا رہے تھے۔ دو پہر ڈھلنے تک یہی سلسلہ رہا ، خلیفہ بڑے عدل وانصاف سے فیصلے کر رہا تھا۔ مجلسِ قضاء ختم ہونے والی تھی، اچانک پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ایک عورت دربار میں آئی
Flag Counter