Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
99 - 410
ہو؟ کیا تمہاری شادی کرادوں؟'' کہنے لگا :''تم میری شادی کیسے کراؤ گے حالانکہ میں تو دنیا کا بادشاہ اور سردار ہوں۔'' میں نے کہا: ''تیرے پاس دنیا کی کونسی نعمت ہے؟'' ہاتھ پاؤں تیرے نہیں، آنکھوں سے تو اندھا ہے اور تواپنے منہ سے اس طرح کھاتا ہے جیسے جانور کھاتے ہیں، پھر بھلا تو دنیا کا سردار کیسے ہو سکتا ہے؟'' وہ کہنے لگا:'' میں اپنے مولا سے راضی ہوں کہ اس نے میرے جسم کو آزمائش میں مبتلا کیا اور میری زبان کو اپنے ذکر سے تر و تازہ رکھا ، یہ میری سب سے بڑی خوش نصیبی ہے ۔''

    پھر وہ شخص میرے پاس سے چلا گیا اور کچھ ہی عرصہ بعد اس کا انتقال ہوگیا ، میں اس کے لئے کفن لے کر آیا جو کچھ بڑا تھا، میں نے بڑا حصہ کا ٹ لیا اور اس کو کفن پہنا کر نماز جنازہ پڑھی پھر اسے دفنا دیا گیا، رات کو میں نے خواب دیکھا تو کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا :'' اے خلف! تم نے ہمارے ولی اور دوست کے کفن میں کنجوسی کی، یہ لو تمہارا کفن تمہیں واپس دیا جاتا ہے ، او رہم نے اپنے اس ولی کو سندس وریشم کا قیمتی کفن پہنادیاہے ۔جب میں بیدار ہوا تو میں نے دیکھا کہ میرا دیا ہوا کفن گھر میں پڑا ہوا تھا ۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
حکایت نمبر37:             چمکتے ہوئے چراغ
    حضرت سیدنابشربن حارث علیہ رحمۃاللہ الوارث فرماتے ہیں:''ایک مرتبہ میں ملک شام روانہ ہوا،راستے میں میری ملاقات ایک عجیب وغریب شخص سے ہوئی، اس کے جسم پر ایک پھٹا پرانا کرتہ تھا جس میں جگہ جگہ گرہیں لگی ہوئی تھیں ، وہ بڑا حیران وپریشان ایک جگہ بیٹھا ہوا تھا گویا کہ وہ کسی خوفناک چیز سے وحشت زدہ ہے ۔ میں اس کے قریب گیا اورکہا:''اے بھائی! اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے، آپ کہا ں سے آئے ہیں ؟''کہنے لگا :'' اسی کے پاس سے آیاہوں۔'' میں نے پوچھا :''کہاں کا ارادہ ہے؟'' کہنے لگا : ''اسی کی طرف۔'' میں نے کہا:'' اللہ عزوجل آپ پر رحم کرے، نجات کس چیز میں ہے ؟'' کہنے لگا:'' تقوی و پرہیزگاری اور اس ذات کے بارے میں غور وفکر کرنے میں جس کے تم طالب ہو ۔''

    میں نے کہا:'' مجھے کچھ نصیحت فرمائیے ۔'' وہ شخص کہنے لگا:'' میں تمہیں اس قابل نہیں سمجھتاکہ تم نصیحت قبول کرو گے۔''میں نے کہا:'' ان شاء اللہ عزوجل ! میں نصیحت قبول کروں گا۔''یہ سن کر اس نے کہا: ''لوگو ں سے ہمیشہ دور بھاگنا،کبھی ان کی قربت اختیار نہ کرنا ، دنیا سے ہمیشہ بے رغبت رہنا ورنہ یہ تجھے ہلاکتوں کے منہ میں ڈال دے گی۔جس نے دنیاکی حقیقت کوجان لیا وہ کبھی بھی اس کی طر ف سے مطمئن نہیں ہوگا، جس نے اس کی تکالیف کودیکھ لیااس نے ان تکالیف کی دوائیں بھی تیار کر لیں، اور جس نے آخرت کوجان لیاوہ اس کے حصول میں مگن ہوگیا۔جوشخص بھی آخرت کی نعمتوں میں غوروفکرکرتاہے وہ ضروران کوطلب
Flag Counter