Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
98 - 410
کہنے لگا:'' اس نوجوان کومیں کفن دو ں گا۔'' جب معاملہ طول پکڑ گیا تو میں نے ان سے کہا:'' میں ساری رات اسی پریشانی میں رہا کہ اس نوجوان کوکفن کون دے گا،پھر صبح جب میں مسجد میں آیا اور اذان دینے کے بعد نماز پڑھنے لگا تو سامنے محراب میں مجھے یہ کفن نظر آیا، میں نہیں جانتاکہ کس نے یہ کفن وہاں رکھا تھا۔''اس پرسبھی کہنے لگے :''اس نوجوان کویہی کفن دیا جائے گا ۔'' پھر ہم نے اسے وہی کفن دیا اور اسے لے کر قبرستان کی طر ف چل دیئے، اس نوجوان کے جنازہ میں اتنے لوگ شریک ہوئے کہ ہمیں کندھا دینے کا بھی موقع نہ مل سکا ، معلوم نہیں کہ اتنے زیادہ لوگ کہاں سے اس نوجوان کے جنازے میں شرکت کے لئے آگئے تھے؟

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
حکایت نمبر36:             ریشمی کفن
    حضرت سیدنا ابو عبداللہ براثی علیہ رحمۃاللہ الکافی فرماتے ہیں،مجھے حضرت سیدنا خلف برزائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بتایا:'' میری کفالت میں ایک کوڑھ زدہ نوجوان دیا گیا جس کے ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے تھے اور آنکھوں سے بھی اندھا تھا، میں نے اسے کوڑھ زد ہ لوگوں کے ساتھ کر دیا،اسی طر ح کافی دن گزر گئے کہ میں اس سے بالکل غافل رہا۔ پھر مجھے اس کا خیال آیا، چنانچہ میں اس کے پاس گیا او راس سے کہا: ''اے اللہ عزوجل کے بندے! تمہارا کیا حال ہے؟ میں تمہاری طر ف سے کافی دن غفلت میں رہا ،تم سے تمہارا حال دریافت نہ کر سکا ۔''

     وہ کہنے لگا:'' میرا ایک دوست ہے جس کی محبت نے میری تمام تکلیفو ں کا احاطہ کیا ہوا ہے، اس کی محبت کی وجہ سے مجھے اپنا درد وغم محسوس نہیں ہوتا، میرا وہ دوست مجھ سے کبھی بھی غافل نہیں ہوتا ۔''

     میں نے کہا:'' (مجھے معاف کرنا) میں تمہیں بھول گیا تھا۔'' وہ کہنے لگا:'' مجھے تمہارے بھولنے کی کوئی پرواہ نہیں، مجھے یا د کرنے والا موجود ہے ، اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک دوست دوسرے دوست کو یاد نہ رکھے، میرا دوست ہر وقت میراخیال رکھتا ہے۔'' میں نے اس سے کہا:'' اگر تم چاہو تومیں تمہاری شادی کسی ایسی عورت سے کرادوں جو تمہاری اس گندگی کو دور کردے اور تمہارے زخموں کی دیکھ بھال کرے۔''تو وہ رونے لگا، پھر ایک آہِ سرد دل پر درد سے کھینچی اور آسمان کی طر ف نظر اٹھاتے ہوئے کہنے لگا: '' اے میرے دل و جان سے پیارے دوست!'' اتنا کہہ کر اس پر بے ہوشی طاری ہوگئی ، پھر جب افاقہ ہوا تو میں نے اس سے پوچھا :''تم کیا کہتے
Flag Counter