| عُیونُ الحِکایات (حصہ اول) |
تمہیں وہ جیت کانشان نظر آئے جس تک پہنچنا ہے تو گھوڑے کی رفتار مزید تیز کردینا ۔''
لوگو ں نے کہا:'' حضور! ہم ایسی ہی ہدایتیں گھڑ سوار کو کرتے ہیں۔''پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ''اے لوگو! میں بھی اپنی موت کے بالکل قریب پہنچ چکاہوں، پھر میں اپنے عمل کو کم کیسے کردوں؟ بلکہ اب تو مجھے اپنے رب عزوجل کی اور بھی زیادہ عبادت کرنی چاہے۔''پھر فرمایا:'' ہر کوشش کرنے والے کی کوئی نہ کوئی غایت ہوتی ہے،اورہرشخص کی غایت موت ہے۔کچھ تواپنی موت تک پہنچ چکے اورجو باقی ہیں عنقریب وہ بھی پہنچ جائیں گے، بالآخر مرنا سب نے ہے۔(۴)حضرت سیدنااسود بن یزید علیہ رحمۃ اللہ المجید
حضرت سیدنا علقمہ بن مرثد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' حضرت سیدنااسود بن یزید علیہ رحمۃاللہ المجید عبادت وریاضت میں خوب کوشش فرماتے ۔بہت زیادہ مجاہدات کرتے ،بکثرت روزے رکھتے یہاں تک کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا رنگ سبزی مائل اور پیلا پڑگیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسّی(80) حج کئے۔''
حضرت سیدنا علقمہ بن قیسرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان سے کہتے:''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کب تک اپنے جسم پر مشقت کرتے رہیں گے؟''یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے: ''میں اپنے جسم کے آرام وسکون کے لئے ہی تو یہ سب کچھ کر رہا ہو ں۔ '' پھرجب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رونے لگے۔لوگو ں نے پوچھا:'' حضور! یہ رونا کیسا ؟''فرمایا : ''میں کیوں نہ رو ؤں؟ کیا مجھ سے بھی زیادہ کوئی رونے کا حق دارہے ؟( پھر عاجزی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ) خد ا عزوجل کی قسم! اگر اللہ عزوجل نے مجھے بخش بھی دیا تب بھی مجھے اپنے گناہوں کی وجہ سے اللہ عزوجل سے حیا آتی رہے گی،اگر بندہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا گناہ بھی کرلے اور اسے بخش بھی دیا جائے لیکن پھر بھی اسے اپنے گناہ پر شر مندگی ضرور رہے گی ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)؎ ملک فانی میں فنا ہر شئے کو ہے سن لگا کر کان آخر موت ہے
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)