فرمایا :'' کیا بات ہے ،سائل کو روٹی دینے میں تم سستی کیوں کر رہے ہو؟''یہ سن کر میں نے دونوں روٹیاں توسائل کو دے دیں لیکن میں پریشان تھا ۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ''کل تو اس ذات سے ملاقات کریگا جس کے ساتھ اس سے پہلے تو شرف ِملاقات حاصل نہیں کرسکا ۔ اور توان تمام چیزوں کااجر بھی پائے گا جنہیں تو آگے بھیجتا رہا ۔اور جو چیزیں تو دنیا میں چھوڑ جائے گاوہ تجھے کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ لہٰذا اپنے لئے آگے کچھ مہیا کر ، تو نہیں جانتا کہ کب اچانک تجھے اپنے رب عزوجل کی طر ف سے بلاوا آجائے ۔ ''
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی اس گفتگونے مجھے رُلا دیا ۔ اور میری نظر وں میں دنیا کی قدرو قیمت بہت کم کردی ۔ جب انہوں نے مجھے روتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا:'' ہاں اسی طر ح زندگی بسر کرو۔''
ابن بشار علیہ رحمۃاللہ الغفار فرماتے ہیں کہ'' ایک مرتبہ میں ، حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم ، ابویوسف غسولی اور ابو عبداللہ سنجاری رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم کے ساتھ سفر پرتھا، ہم ایک قبر ستان کے پاس سے گزرے تو حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم ایک قبر کے پاس آئے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اور فرمایا :'' اے فلاں ! اللہ عزوجل تجھ پر رحم فرمائے ۔'' پھر دو سری قبر کے پاس آئے اور اسی طرح کہا۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے سات قبروں کے پاس جا کر اسی طر ح کہا۔ پھران قبروں کے درمیان کھڑے ہوگئے اور باآواز بلند اس طرح ندا کی:'' اے فلاں بن فلاں! اے اہل قبور!تم فو ت ہو گئے اور ہمیں پیچھے چھوڑ آئے ۔ ہم بھی جلد ہی تم سے ملنے والے ہیں ۔'' پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہرونے لگے اور کسی گہری سوچ میں گم ہوگئے کچھ دیر اسی طرح بیٹھے رہے پھر آنسوؤں سے تربتر چہرے کے ساتھ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :'' اے میرے بھائیو!آخرت کی تیاری کے لئے تم پر جدّو جہد اور جلدی لازم ہے،جلد ی کرو اور آخرت کی تیاری میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کرو،بے شک تیز رفتاری میں اپنے مدِّ مقابل پر وہی سبقت لے جاتا ہے جو تیز چلتا ہے۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبیالامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)