اپنی ہتھیلیوں سے پانی پیا ۔ پانی پینے کے بعد اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہہ کرنہر سے باہر تشریف لائے پھر پاؤں پھیلا کر بیٹھ گئے اورفرمایا: ''اے ابو یوسف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ! اگر بادشاہ اور ان کے شہزادے ہماری نعمتوں اور سکون کو جان لیں تو وہ ہمیں تلواروں کے ساتھ مارنے لگیں۔میں نے عرض کی:'' حضور! لوگ نعمتوں اورراحت وسکون کے توطالب ہیں مگر انہوں نے سیدھے راستے کو چھوڑ دیا ہے ۔'' میری اس بات پرآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ مسکرا دیئے۔
حضرت سیدنا ابراہیم بن بشار علیہ رحمۃاللہ الغفار مزید فرماتے ہیں:'' ایک شام ہم نے حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظمکے ساتھ گزاری ۔ ہم روزے سے تھے لیکن افطاری کے لئے ہمارے پاس کوئی چیز نہ تھی ۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جب مجھے غم وحزن کے عالم میں دیکھاتو فرمایا :'' اے ابن بشار علیہ رحمۃاللہ الغفار ! دیکھو!اللہ عزوجل نے فقراء ومساکین پر نعمتوں اور راحتوں کی کیسی چھماچھم برسات فرمائی ہے کہ کل بروزِقیامت ان سے زکوٰۃ اور حج و صدقہ کے متعلق سوال نہیں فرمائے گا ۔ بلکہ فقرا ء و مساکین کے بارے میں ان لوگوں سے سوال کیا جائے گا جودنیا میں امیر ہیں لیکن آخرت میں فقیر ہوں گے،او ر جودنیا میں معزز ہیں مگر آخرت میں ذلیل و رسوا ہو ں گے ۔ لہٰذا تم غم نہ کر و، جس رزق کااللہ عزوجل نے ذمہ لیا ہے وہ عنقریب تجھے مل کر رہے گا۔ اللہ عزوجل کی قسم! بادشاہ اور غنی تو ہم ہیں۔ ہم ہی تو ہیں جنہیں دنیا میں ہی بہت جلد راحت وسرور میسر ہے ،جب ہم اللہ عزوجل کی اطاعت میں ہوں تو ہمیں کچھ پرواہ نہیں ہوتی کہ ہم کس حال میں صبح وشام کر رہے ہیں۔ ہم ہر حال میں اللہ عزوجل کے شکر گزار ہیں۔''
پھر آپ رحمۃا للہ تعالیٰ علیہ نماز کے لئے کھڑے ہوگئے ۔ میں بھی اپنی نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوگیا ۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک آدمی آٹھ روٹیاں اور بہت ساری کھجوریں لے کر ہمارے پاس آ یا۔ اس نے سلام کیا او رکہا ـ:''اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے، یہ کچھ کھانا حاضرِ خدمت ہے، تناول فرمائیے ۔'' حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم نے مجھ سے فرمایا:'' اے مغموم! کھا نا کھاؤ۔''
ابھی ہم کھانا کھانے بیٹھے ہی تھے کہ ایک سائل آگیا اس نے کہا:''مجھے کچھ کھانا کھلاؤ ۔''آپ رحمۃا للہ تعالیٰ علیہ نے تین روٹیاں اورکچھ کھجوریں سائل کودے دیں تین روٹیاں مجھے عطافرمائیں اوردوروٹیاں خودتناول فرمائیں۔ پھرارشادفرمایا: ''مؤاسات (یعنی غمخواری ) مؤمنین کے اخلاق میں سے ہے ۔''
ابن بشار علیہ رحمۃاللہ الغفار فرماتے ہیں:'' ایک مرتبہ میں ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاعظم کے ساتھ طرابلس روانہ ہوا۔ میرے پاس دو روٹیوں کے علاوہ او رکوئی شے نہ تھی ۔راستے میں ایک سائل نے سوال کیا توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے فرمایا: ''جو کچھ تیرے پاس ہے وہ اس سائل کودے دے'' اس معاملہ میں مَیں نے تھوڑی سی سستی کی، توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے