وہ شخص اپنے رفیق کی اس بات سے بہت متعجب ہو ا کہ'' اسے اللہ عزوجل کی ولایت کی تو فیق عطا کی گئی ہے۔'' پھر میری طرف متوجہ ہو ا اور کہنے لگا:'' اے عزیز ! عنقریب تو اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کریگا۔ جب تجھے یہ سعادت نصیب ہو تو ان کے لئے ایسی زمین کی مانند ہوجا کہ اگر وہ چاہیں تو تجھے پاؤں کے نیچے روند ڈالیں ۔ اوراگر وہ تجھے ماریں،جھڑکیں یا دھتکاردیں تو تُو اپنے دل میں سوچنا کہ تو آیاکہاں سے ہے ؟ اگر تو غور وفکر کریگا تو اللہ عزوجل کی نصرت تیری مؤید ہوگی اور اللہ عزو جل تجھے دین کی سمجھ بوجھ عطا فرمائے گا،پھر لوگ دل وجان سے تجھے مان لیں گے ۔
اے نوجوان !یا د رکھ ،جب کسی انسان کو اچھے لوگ چھوڑ دیں ، پرہیز گار اس کی صحبت سے بچنے لگیں اور نیک لوگ اس سے ناراض ہو جائیں تو یہ اس کے لئے نقصان دہ بات ہے۔ اب اسے جان لینا چاہے کہ اللہ عزوجل مجھ سے ناراض ہے ۔جو شخص اللہ عزوجل کی نافرمانی کر ے گا تو اللہ عزوجل اس کے دل کو گمراہی اور تاریکی سے بھر دے گا ۔اس کے ساتھ ساتھ وہ رزق( کی برکت )سے محرو م ہوجائے گا اور خاندان والوں کی جفا اور صاحبِ اقتدار لوگو ں کا بغض اس کا مقدّر بن جائے گا ۔پھر اللہ عزوجل جہاں چاہے اسے ہلاک کر دے۔''
میں نے کہا:'' ایک مرتبہ میں نے ایک نیک شخص کی ہمراہی میں کوفہ سے مکہ مکرمہ تک سفر کیا۔جب شام ہوتی تو وہ دو رکعت نماز ادا کرتا۔ پھر آہستہ آہستہ کلام کرتا۔میں دیکھتا کہ ثرید سے بھرا ہوا پیالہ اور پانی سے بھرا ہوا ایک کوزہ اس کے دائیں جانب رکھا ہوتا۔ وہ اس کھانے میں سے خود بھی کھاتا اور مجھے بھی کھلاتا۔ میری یہ بات سن کر وہ شخص اور اس کے رفقاء رونے لگے۔''
پھراس نے مجھے بتایا:'' اے میرے بیٹے! وہ میرے بھائی داؤد تھے اور ان کی رہائش بلخ سے پیچھے ایک گاؤں میں تھی۔ داؤد کے وہاں سکونت اختیار فرمانے کی وجہ سے وہ گاؤں دو سری جگہوں پر فخر کرتا ہے ۔اے عزیز ! انہوں نے تجھے کیا کہا تھا ، او رکہا سکھایا تھا ؟'' میں نے کہا:'' انہوں نے مجھے اسمِ اعظم سکھایا۔'' اس شخص نے پوچھا: ''وہ کیا ہے ؟'' میں نے کہا:'' اس کا بولنا میرے لئے بہت بڑا معاملہ ہے۔ ایک بار میں نے اسم اعظم پڑھا تو فوراً ایک آدمی ظاہر ہوا اور میرا دامن پکڑ کر کہنے لگا:'' سوال کر، عطا کیا جائے گا۔ '' مجھ پر گھبراہٹ طاری ہوگئی ۔ میری یہ حالت دیکھ کر وہ بولا:'' گھبرانے کی کوئی بات نہیں ،میں خضر ہوں اورمیرے بھائی داؤد نے تمہیں اللہ عزوجل کا اسم ِاعظم سکھایا ہے ۔ا س اسم اعظم کے ذریعے کسی ایسے شخص کے لئے کبھی بھی بد دعا نہ کرنا جس سے تمہارا ذاتی جھگڑا اوراختلاف ہو، اگر ایساکروگے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اسے دنیا و آخرت کی ہلاکت میں مبتلا کردو اور پھر تم بھی نقصان اُٹھاؤ ۔ بلکہ اس اسمِ اعظم کے ذریعے اللہ عزوجل سے دعا کرو کہ وہ تمہارے دل کو دینِ اسلام پر ثابت رکھے ۔تمہارے پہلو