Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
328 - 410
حکایت نمبر 155:         رزق کی برکت سے محروم کون.....؟
    حضرت ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم فرماتے ہیں،ایک مرتبہ میں ا سکندریہ کے ایک شخص سے ملا جسے اسلم بن زید اَلجھنی کہا جاتاتھا ۔ و ہ مجھ سے کہنے لگا :''اے نوجوان ! تم کون ہو؟'' میں نے کہا:'' میں خراسان کا رہنے والا ہوں۔'' اس نے پوچھا: ''تجھے دنیا سے بے رغبتی پر کس چیز نے ابھارا؟'' میں نے جواب دیا :'' دنیوی خواہشات کو ترک کرنے اور ا ن کے ترک پر اللہ عزوجل کی طرف سے ملنے والے ثوا ب کی امید نے۔''وہ کہنے لگا :'' بندے کی اللہ عزوجل سے اجر وثواب کی امید اس وقت تک پوری نہیں ہوسکتی جب تک وہ اپنے نفس کو صبر کرنے کا عادی نہ بنالے ۔ یہ سن کر اُس کے پاس کھڑے ایک شخص نے پوچھا :'' صبر کیا ہے؟ ''اس نے جواب دیا:'' صبر کی سب سے پہلی منزل یہ ہے کہ انسان ان باتوں کو بھی (خوشی سے) برداشت کرلے جو اس کے دل کو اچھی نہ لگیں۔''میں نے کہا:''اگروہ ایساکر لے تو پھر کیا ہوگا؟''

     اس نے کہا :'' جب وہ ناپسند یدہ باتوں کو برداشت کرلے گا تو اللہ عزوجل اس کے دل کو نور سے بھردے گا ۔پھر میں نے اس سے پوچھا:'' نور کیا ہے ؟ '' اس نے مجھے بتایا:''یہ اس شخص کے دل میں موجود ایسا چراغ ہوتا ہے جو حق وباطل اور متشابہ میں فرق کرتا ہے ۔ اے نوجوان ! جب تو اولیاء کرا م رحمہم اللہ تعالیٰ کی صحبت اختیار کرے یا صالحین سے گفتگوکر ے تو ان کی ناراضگی سے ہمیشہ بچتے رہناکیونکہ ان کی ناراضگی میں اللہ عزوجل کی ناراضگی اور ان کی خوشی میں اللہ عزوجل کی خوشی پوشیدہ ہے۔ اے نوجوان! میری یہ باتیں یاد کرلے ، اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کر اور سمجھدار ہوجا۔''

    یہ نصیحت آموز باتیں سن کرمیری آنکھوں سے سیل ِاشک رواں ہوگیا۔میں نے کہا :'' اللہ عزوجل کی قسم ! میں نے اللہ عزوجل کی محبت ،اس کی رضاکے حصول اور دنیوی خواہشات کو تر ک کرنے کی خاطر اپنے والدین اورمال و دولت کو چھوڑ اہے۔'' اس نے کہا:'' بُخل سے کوسوں دور بھاگنا۔ میں نے پوچھا:'' بُخل کیا ہے؟'' اس نے کہا:'' دنیا والوں کے نزدیک توبخل یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے مال میں کنجوسی کرے جبکہ آخرت کے طلبگار وں کے نزدیک بخل یہ ہے کہ کوئی اپنے نفس کے ساتھ اللہ عزوجل سے کنجوسی کرے ۔ یا د رکھ ! جب انسان اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر اپنے دل سے سخاوت کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے دل کوہدایت او ر تقوی سے بھر دیتا ہے اور اسے سکون ،وقار ، اچھا عمل اورعقل سلیم جیسی نعمتیں ملتی ہیں۔اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور وہ مسرور و شاداں ان دروازوں کے کھلنے کی کیفیت کو دیکھتا ہے۔'' 

     یہ سن کراس کے رفقاء میں سے ایک شخص نے کہا :'' حضور !اس کی آتشِ عشق کو مزید بھڑکایئے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس نوجوان کو اللہ عزوجل کی طر ف سے ولایت کی توفیق عطا کی گئی ہے۔ ''
Flag Counter