میں نے کہا : ''اگر تمہیں میری بات پر یقین نہیں آتاتو میرے ساتھ چلو، میں تمہیں اس کامال ودولت اور خزانہ دکھاتا ہوں جو وہ جمع کرتا رہااورفقراء ومساکین اوریتیموں پر خرچ نہ کیا ۔'' لوگ میرے ساتھ چل دیئے۔ میں نے انہیں وہ مٹکے دکھائے جن میں سونا بھر اہوا تھا ۔ انہوں نے وہ مٹکے لئے اور کہا:'' خدا عزوجل کی قسم !ہم اس راہب کو دفن نہیں کریں گے ۔'' پھر انہوں نے اس کے مردہ جسم کو سولی پر لٹکایا اور پتھر مار مار کر چھلنی کردیا پھراس کی لاش کو بے گور وکفن پھینک دیا۔ اس کے بعد لوگو ں نے ایک اور راہب کواس کی جگہ منتخب کرلیا۔ وہ بہت اچھی عادات وصفات کا مالک اورانتہائی متقی وپرہیز گار شخص تھا، طمع ولا لچ اس میں بالکل نہ تھی، دن رات عبادت میں مشغول رہتا۔ دُنیوی معاملات کی طر ف بالکل بھی تو جہ نہ دیتا ،میرے دل میں اس کی عقیدت ومحبت گھر کر گئی۔ میں نے اس کی خوب خدمت کی اوراس سے نصرانیت کے بارے میں معلومات حاصل کرتا رہا ۔
جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا : ''آپ مجھے کس کے پاس جانے کی وصیت کر تے ہیں ؟ آپ کے بعد میری رہنمائی کون کریگا ؟'' وہ راہب کہنے لگا :'' اے میرے بیٹے! اللہ عزوجل کی قسم! جس دین پر میں ہوں اس میں سب سے بڑا عالم وفقیہہ ایک شخص ہے جو '' موصل '' میں رہتا ہے۔میرے نزدیک اس سے بہتر کوئی نہیں جو تمہاری رہنمائی کر سکے، اگرتم سے ہوسکے تو اس کی خدمت میں حاضر ہوجاؤ ۔'' راہب کی یہ بات سن کر میں موصل چلا گیا اوروہاں کے راہب کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے واقعی اسے ایسا پایا جیسا اس کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ وہ بہت نیک وزاہد شخص تھا ۔چنانچہ میں اس کے پاس رہنے لگا پھر جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا : ''اب آپ مجھے کس کے پاس جانے کاحکم دیتے ہیں جو آپ کے بعد میری صحیح رہنمائی کرے؟''اس نے جواب دیا : '' اللہ عزوجل کی قسم! اس وقت ہمارے دین کا سب سے بڑا باعمل عالم '' نصیبین ''میں رہتا ہے ۔میری نظروں میں اس سے بہتر کوئی اور نہیں،اگر ہوسکے تو اس کے پاس چلے جاؤ ۔''
چنانچہ میں سفر کی صعوبتیں برداشت کرتا ہوا ''نصیبین '' پہنچا اور اس راہب کے پاس رہنے لگا۔ وہ بھی نہایت متقی وپرہیزگار شخص تھا ، جب اس کی وفات کا وقت آیا تو میں نے پوچھا: ''آپ مجھے کس کے پاس جانے کا حکم فرماتے ہیں ؟ ''اس نے کہا: ''اس وقت ہمارے دین پر قائم رہنے والوں میں سب سے بڑا باعمل راہب '' عموریہ '' میں رہتا ہے، میری نظروں میں اس سے بہتر کوئی نہیں، تم اس کے پاس چلے جاؤ وہ تمہاری صحیح رہنمائی کریگا۔'' چنانچہ میں ''عموریہ'' پہنچا اور اس راہب کی خدمت میں رہنے لگا ۔ وہ واقعی بہت نیک وصالح شخص تھا ۔ میں اس سے دینِ نصاری کے بارے میں معلومات حاصل کرتا اور دن کوبطورِ اجیر(یعنی مزدور) ایک شخص کے جانوروں کی دیکھ بھال کرتا۔اس طرح میرے پاس اتنی رقم جمع ہوگئی کہ میں نے کچھ گائے اور بکریا ں وغیرہ خرید لیں ۔ پھر جب اس راہب کی موت کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا:''آپ مجھے کس کے پاس بھیجیں گے جو آپ