ان کا اندازِ عبادت بہت پسند آیا چنانچہ میں شام تک انہی کے پاس بیٹھا رہا۔''
یہ سن کر میرا باپ پریشان ہوااور کہنے لگا :''میرے بیٹے !ان لوگوں کے مذہب میں کوئی بھلائی نہیں۔ جس مذہب پر ہم ہیں اورجس پر ہمارے آباؤ اجدادتھے وہی سب سے اچھا ہے لہٰذا تم کسی اور طرف تو جہ نہ دو۔''میں نے کہا:'' ہر گز نہیں، خداعزوجل کی قسم !ان راہبوں کا مذہب ہمارے مذہب سے بہت بہتر ہے۔ ''میری یہ گفتگو سن کر میرے باپ کو یہ خوف ہونے لگا کہ کہیں میرا بیٹا مجوسیت کو چھوڑ کرنصرانی مذہب قبول نہ کرلے۔ اسی خوف کے پیشِ نظر اس نے میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈالوا دیں اورمجھے گھر میں قید کر دیا تا کہ میں گھر سے باہر ہی نہ نکل سکوں۔ مجھے ان راہبوں سے بہت زیادہ عقیدت ہو گئی تھی۔ میں نے کسی طر یقے سے ان تک پیغام بھجوایا کہ جب کبھی تمہارے پاس ملکِ شام سے کوئی قافلہ آئے تو مجھے ضرور اطلاع دینا۔
چند رو ز بعد مجھے اِطلاع ملی کہ شام سے راہبوں کا ایک قافلہ ہمارے شہر میں آیا ہوا ہے۔ میں نے پھر راہبوں کو پیغام بھجوایا کہ جب یہ قافلہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد واپس شام جانے لگے تو مجھے ضرور اطلاع دینا ۔کچھ دن بعد مجھے اِطلاع ملی کہ قافلہ واپس شام جارہا ہے ۔میں نے بہت جدو جہد کے بعداپنے قدموں سے بیڑیاں اُتا ریں اور فوراً شام جانے والے قافلے کے ساتھ جا ملا ۔ مُلکِ ''شام ''پہنچ کر میں نے لوگوں سے پوچھا:'' تم میں سب سے زیادہ معزز اورصاحب ِعلم وعمل کون ہے ؟'' لوگوں نے بتا یا:''فلاں کنیسہ(یعنی عبادت خانہ) میں رہنے والا راہب ہم میں سب سے زیادہ قابل اِحترام اور سب سے زیادہ متقی و پر ہیز گار ہے ۔''چنانچہ میں اس راہب کے پاس پہنچا اور کہا:'' مجھے آپ کا دین بہت پسند آیا ہے ، اب میں اس دین کے بارے میں کچھ معلومات چاہتا ہوں۔ اگر آپ قبول فرمالیں تومیں آپ کی خدمت کیا کروں گا اور آپ سے اس دین کے متعلق معلومات بھی حاصل کرتا رہوں گا۔ برائے کرم !مجھے اپنی خدمت کے لئے رکھ لیجئے ۔''
یہ سن کر اس راہب نے کہا:'' ٹھیک ہے، تم بخوشی میرے ساتھ رہو اور مجھ سے ہمارے دین کے بارے میں معلومات حاصل کرو۔''چنانچہ میں اس کے ساتھ رہنے لگا لیکن وہ راہب مجھے پسند نہ آیا۔وہ بہت بُرا شخص تھا، لوگو ں کو صدقات وخیرات کی ترغیب دلاتا ۔ جب لوگ صدقات وخیرات کی رقم لے کر آتے تو یہ اس رقم کو غریبو ں اور مسکینوں میں تقسیم نہ کرتا بلکہ اپنے پاس ہی جمع کرلیتا ۔ اس طرح اس بد با طن راہب نے بہت سارا خزانہ جمع کرکے سونے کے بڑے بڑے سات مٹکے بھر لئے تھے ۔ مجھے اس کی ان حرکتوں پر بہت غصہ آتا بالآخرجب وہ مرا تو لوگو ں کا بہت بڑا ہجوم اس کی تجہیز وتکفین کے لئے آیا ۔ میں نے لوگو ں کو بتایا: '' جس کے بارے میں تمہارا گما ن تھا کہ وہ سب سے بڑا راہب ہے وہ تو بہت لالچی اور گندی عادتو ں والا تھا۔ '' لوگ کہنے لگے :'' یہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ وہ راہب بُر ا شخص تھا؟''