Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
297 - 410
کے خلاف کسی کی بھی بات نہ مانو، مال حلال طریقے سے حاصل کر و اور جہاں اسے صرف کرنے کا حق ہے وہیں صرف کرو ۔''

     ابراہیم بن ہشام کہنے لگا :'' ان باتوں پرکَمَا حَقُّہٗ کون عمل کر سکتا ہے؟''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: '' اے ابراہیم! اگر تُو چاہتا ہے کہ تجھے دنیا میں سے اتنی چیز ملے جو تجھے کافی ہو تو تیرے لئے تھوڑی سی دنیوی نعمتیں بھی کافی ہیں اگر تو صبر کرے۔ اور اگر تُودنیا کا حریص ہے تو چاہے کتنا ہی مال و زر جمع کرلے تیری حرص ختم نہ ہوگی تُو کبھی بھی دُنیوی دولت سے بے نیاز نہ ہوگا، ہر وقت اس میں اضافے کا متمنی ہوگا ۔''

     ابراہیم بن ہشام نے پوچھا :''کیا بات ہے کہ ہم جیسے لوگ موت کو ناپسند کرتے ہیں ؟'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''تم لوگو ں نے اپنی ساری تو جہ دنیا کی دولت پر دے رکھی ہے او رہر وقت تمہارے سامنے دنیوی نعمتیں موجود رہتی ہیں ۔ اس لئے تمہیں ان نعمتوں سے جدا ہونا پسند نہیں۔ اگر تم آخرت کی تیاری کرتے اور آخرت کے لئے اعمال صالحہ کئے ہوتے تو تم موت کو کبھی بھی ناپسند نہ کرتے بلکہ آخرت کی نعمتوں کی طرف جلدی کرتے۔

    آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یہ حکمت بھری باتیں سن کر حضرت سیدنا امام زہری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے فرمایا:'' اے امیر!خدا عزوجل کی قسم !میں نے آج تک کبھی بھی اس کلام سے بہتر کلام نہیں سنا۔'' شیخ ابو حازم علیہ رحمۃ اللہ الدائم نے کیسے جامع کلمات کے ساتھ ہمیں نصیحت کی ہے، میں عرصہ دراز سے ان کا پڑوسی ہوں لیکن افسوس !میں کبھی ان کی بارگاہ میں حاضر نہ ہوسکااوران کی صحبتِ بابر کت سے محروم رہا ۔''

     شیخ ابو حازم علیہ رحمۃ اللہ الدائم نے فرمایا: ''اے ابن شہاب زہری( رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ )! اگر تو ان علماء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم میں سے ہوتا جو دنیا داروں سے بے نیاز ی کو پسند کرتے ہیں تو ضرور میری مجلس میں بیٹھتا اور ضرور مجھ سے ملاقات کا سلسلہ رکھتا ۔''

     اس پر حضرت سیدناابن شہاب زہری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے عرض کی: ''اے ابو حازم علیہ رحمۃ اللہ الدائم ! مجھے آپ کی اس بات نے غمزدہ کردیاہے۔'' توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''اے زہری علیہ رحمۃ اللہ القوی! جب کوئی شخص اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر علم حاصل کرتا ہے تو وہ شخص اپنے اس علم کی بدولت مخلوق سے بے نیاز ہوجاتا ہے، اسے کوئی دُنیوی غرض وغایت نہیں ہوتی اور ایسے عالم ِربّانی کی طرف لوگ اِکتسابِ علم کے لئے آتے ہیں۔ بڑے بڑے اُمراء ودنیا دار لوگ اس عالم ربّانی کی بارگاہ میں دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ایسا عالم اُمراء اور عوام دونوں کے لئے با عث نجات ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ انہیں حق با ت ہی کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں سے روکتا ہے۔

    اگر علماء کودنیا کی حرص با دشا ہوں کے درباروں میں لے جائے تو پھر علماء اپنی شان کھو بیٹھتے ہیں اور اُمراء ان کو زیادہ