| عُیونُ الحِکایات (حصہ اول) |
میری جھونپڑی توڑی جارہی تھی، میں موجود نہ تھی لیکن میرے رحیم وکریم پر ودگار عزوجل! تُو تو ہر چیز دیکھتا ہے، تیری قدرت تو ہر شئے کو محیط ہے ، میرے مولیٰ عز وجل !تیرے ہوتے ہوئے تیری ایک عاجز بندی کی جھونپڑی توڑدی گئی ۔''
اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اس بڑھیاکی آہ وزاری او ر دعا مقبول ہوئی ۔ اللہ عزوجل نے حضرت سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ اس پورے محل کو با دشاہ اور اس کے سپاہیوں سمیت تباہ وبر باد کر دے ۔'' حکم پاتے ہی حضرت سیدنا جبرائیل علیہ السلام زمین پر تشریف لائے اور سارے محل کو اس ظالم بادشاہ اور اس کے سپاہیوں سمیت زمین بوس کر دیا۔''
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ حقیقت ہے کہ ظالم کو اس کے ظلم کا بدلہ ضرور دیا جاتا ہے۔ مظلوم کی دعا بارگاہ خدا و ندی عزوجل میں ضرور قبول ہوتی ہے ۔ اللہ عزوجل ہمیں ظالموں کے ظلم سے محفوظ رکھے اور ہماری وجہ سے کسی مسلمان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ اے اللہ عزوجل !ہمیں ہر وقت اپنی حفظ وامان میں رکھ اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرما۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)حکایت نمبر141: علماء کی شان وشوکت
حضر ت سیدنا امام ابن شہاب زہری علیہ رحمۃ اللہ القوی سے مروی ہے کہ جب ابراہیم بن ہشام حاکم بنا تو میں اس کے ساتھ ہی رہتا ۔وہ کئی معاملات میں مجھ سے مشورہ کرتا ۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا :'' اے زہری (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) !کیا ہمارے شہر میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی صحبت پائی ہو، اگر کوئی ایساشخص تمہاری نظر میں ہے تو بتا ؤ ۔'' میں نے کہا : ''ہاں،حضرت سیدنا ابو حازم علیہ ر حمۃ اللہ الدائم اس شہر میں رہتے ہیں، انہیں حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبتِ با برکت حاصل ہوئی ہے او ران سے سنی ہوئی کئی حدیثیں بھی آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) بیان فرماتے ہیں ۔''
چنانچہ ابراہیم بن ہشام نے ایک قاصد بھیج کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بلوایا ، آپ تشریف لائے اور سلام کیا ۔ابراہیم بن ہشام نے جواب دیا اور کہا:'' اے ابو حازم علیہ رحمۃ اللہ الدائم !ہمیں کوئی حدیث سنائیے ۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''اے ابراہیم بن ہشام! اگر مجھے تمہاری آخرت کی بھلائی مقصود نہ ہوتی تو میں کبھی بھی تیرے پاس حدیث نبوی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سنانے نہ آتا۔ ابراہیم بن ہشام نے پوچھا: ''حضور! آپ یہ بتائیں کہ ہمیں نجات کس طرح حاصل ہوگی؟''
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :'' اس کا ایک ہی طر یقہ ہے کہ تم اللہ عزوجل کے اَحکام کو تمام مخلوق پر ترجیح دو، اللہ عزوجل کے حکم