حق دلوایا جائے۔'' اے ہمارے امیر!اب شریعت کا حکم یہ ہے کہ یا تو آپ خود تشریف لائیں یا اپنا کوئی وکیل بھیجیں تاکہ فریقین کی گفتگو سن کر مَیں فیصلہ کر سکوں اور حق واضح ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔والسّلام
قاضی صاحب نے خط پر مہر ثبت فرمائی اور ایک شخص کو وہ خط دے کر امیر(یعنی گورنر) کے پاس بھیج دیا،جب قاصد نے جاکر بتایا کہ قاضی کی طرف سے آپ کو خط آیا ہے تو گورنر نے اس خط کو کوئی اہمیت نہ دی اور اپنے خادم کو بلا کر وہ خط اس کے حوالے کر دیا ۔جب قاصد نے دیکھا کہ قاضی کے خط کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی تو وہ واپس لوٹ آیا اور سارا واقعہ قاضی صاحب کو بتایا۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دوبارہ خیر خواہی کے جذبے کے تحت خط لکھااور اس میں بھی یہی کہا :''آپ کے خلاف دعوی کیا گیا ہے لہٰذاآپ یا تو خود عدالت میں تشریف لائیں یا اپنے کسی وکیل کو بھیج دیں تاکہ شریعت کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے، اللہ عزوجل آپ کو سلامت رکھے ۔پھر آپ نے خط پر مہر لگائی اور دوقاصدوں کو خط دے کر عیسیٰ بن جعفر کے پاس بھیجا ۔جب وہ دونوں قاصد اس کے پاس پہنچے تو اس نے خط دیکھ کر بہت غیض وغضب کااظہارکیا،خط کو زمین پرپھینک دیااورقاصدوں کو بھی ڈانٹا۔چنانچہ دونوں قاصد شرمندہ ہو کرواپس قاضی عبید بن ظبیان علیہ رحمۃ اللہ الحنّان کے پاس آئے اور انہیں سارا واقعہ کہہ سنایا۔
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے قاصدوں کی بات سُن کر تیسری مرتبہ پھر خط بھیجا اور اس میں لکھا:''اے ہمارے امیر! اللہ عزوجل آپ کی حفاظت فرمائے آپ کو نعمتوں سے مالامال کرے۔آپ کے خلاف دعوی دائر کیاگیا ہے ۔باربارآپ کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ یاتوآپ خود عدالت میں آئیں یا اپنے کسی وکیل کو بھیجیں تاکہ فیصلہ کیا جاسکے۔ اگر اس مرتبہ بھی آپ یاآپ کا وکیل نہ آیا تو میں یہ معاملہ خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید کی خدمت میں پیش کروں گا لہٰذا آپ جلدازجلد اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔والسّلام
پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے دو آدمیوں کو وہ خط دے کر عیسیٰ بن جعفر کے پاس بھیجا،جب دونو ں قاصد دربار میں پہنچے تو انہیں باہر ہی روک دیا گیا۔کچھ دیر بعد عیسیٰ بن جعفر باہر آیا تو قاصدوں نے اسے قاضی صاحب کا خط دیا۔اس نے خط کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور اسے پڑھنا بھی گوارانہ کیا اور پڑھے بغیرپھینک دیا۔قاصد بیچارے شرمندہ ہو کر قاضی صاحب کے پاس آئے اور انہیں سارا واقعہ سنایا، جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے یہ دیکھا کہ عیسیٰ بن جعفر اپنے عہدے اور طاقت کے گھمنڈ میں آکر قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے اورمیں حق دار کو اس کا حق نہ دلوا سکاتو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اسی سوچ کی بناء پر اپنے تمام کاغذات وغیرہ ایک تھیلے میں بھرے اور گھر کی طرف روانہ ہو گئے اور عدالت میں آنا چھوڑ دیا۔
جب معاملہ طول پکڑگیا اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ عدالت میں نہ آئے تو لوگوں نے خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید کو