نہیں آتا تو دو سرے قیدیوں سے پوچھ لو۔'' نوجوان کی یہ بات سن کر سپاہی بہت حیران ہوئے او رانہوں نے جاکر اپنے افسر کو یہ واقعہ بتا یا وہ بھی حیران ہوااور اس نے فوراَ ایک لوہا ر کو بلایا اور کہا: ''اس نوجوان کے لئے مضبو ط سے مضبوط بیڑیاں تیار کرو ، لوہار نے پہلی بیڑیوں سے مضبوط بیڑیاں تیار کیں ۔ مجھے دوبارہ پابندِ سلاسل کر دیا گیا۔ ابھی میں ان بیڑیوں میں چندقدم ہی چلا ہوں گا کہ وہ بھی خود بخود ٹوٹ کر زمین پر گر پڑیں۔
یہ منظر دیکھ کر سارے لوگ بہت حیران ہوئے اور انہوں نے باہم مشورہ سے ایک راہب کو بلایا اور اسے ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔ راہب نے ساری گفتگو سن کر مجھ سے پوچھا: ''اے نوجوان! کیا تمہاری والدہ زندہ ہے؟ ''میں نے کہا :''ہاں ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزوَجَلَّ !میری ماں زندہ ہے۔'' راہب میری بات سن کر ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوااور کہنے لگا:'' اس نوجوان کی والدہ نے اس کے لئے دعا کی ہے، اس کی دعاؤں نے اس نوجوان کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے اور اللہ عزوجل نے اس کی ماں کی دعا قبو ل فرمالی ہے، اب چاہے تم اسے کتنی ہی مضبوط زنجیروں میں قید کر و یہ پھر بھی آزاد ہو جائے گا لہٰذا بہتر ی اسی میں ہے کہ اسے آزاد کردو جس کے ساتھ ماں کی دعائیں ہوں اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔'' راہب کی یہ بات سن کران رومیوں نے مجھے آزاد کردیا اور مجھے اسلامی سر حد تک چھوڑ گئے۔
جب اس نوجوان سے وہ دن اور وقت پوچھا گیاجس دن اس کی بیڑیاں ٹوٹی تھیں تو وہ وہی دن تھا جس دن بڑھیا حضرت سیدبقی بن مخلد علیہ رحمۃ اللہ الصمد کی بارگاہ میں حاضر ہوئی تھی اور اس نے دعا کے لئے عرض کی تھی او رآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کے بیٹے کے لئے دعا کی تھی۔ اسی دن اوراسی وقت نوجوان کو روم میں وہ واقعہ پیش آیا ، اس طرح ماں کی دعاؤں اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی برکت سے اس نوجوان کو رہائی حاصل ہوئی ۔
؎ نگاہِ ولی میں وہ تا ثیر دیکھی بدلتی ہزارو ں کی تقدیر دیکھی
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسی طرح کا واقعہ ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے کے ساتھ بھی پیش آیا، چنانچہ مروی ہے کہ حضرت سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزندِ ارجمند کو مشرکین نے قید کرلیا ۔ حضر ت سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرکارِ مدینہ ،راحتِ قلب وسینہ ،باعثِ نزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ بے کس پناہ میں حاضر ہوئے اور اپنے بیٹے کی قید کے متعلق بتایا اور پھر یہ بھی بتایا کہ آج کل ہم بہت تنگی کے عالم میں زندگی گزار ر ہے ہیں ۔ یہ سن کر نبی ئکریم، رء ُ وف ورحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اللہ عزوجل سے ڈرو،صبر کرو اور لَا حَوْلَ ولَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم کی