دے کر اسے آزاد کر الوں، میری ملکیت میں صر ف ایک چھوٹا سا گھر ہے جسے میں بیچ بھی نہیں سکتی ، اپنے لختِ جگر کی جدائی کے غم نے میرے دن کا سکون اور راتوں کی نیند اُڑا دی ، مجھے ایک پَل سکون میسر نہیں، خدا را! میری حالتِ زار پر رحم فرمائیں، اگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کسی صاحبِ حیثیت سے کہہ دیں گے تو وہ فدیہ دے کر میرے بیٹے کو آزاد کرالے گا اور اس طر ح مجھے قرار نصیب ہوجائے گا ۔''
اس بوڑھی ماں کی یہ مامتا بھری باتیں سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے فرمایا: ''محترمہ !اللہ عزوجل پر بھروسہ رکھووہ ضرور کرم فرمائے گا ، میں آپ کے معاملے کو حل کرنے کو شش کرتا ہوں ، آپ بے فکر ہوجائیں۔'' جب دکھیاری ماں نے ڈھارس بندھانے والی یہ باتیں سنیں تو دعائیں دیتی ہوئی وہاں سے رخصت ہوگئی ۔
راوی کہتے ہیں کہ جب وہ بڑھیا وہاں سے چلی گئی تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سرجھکا کر بیٹھ گئے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مبارک ہونٹوں کو جنبش ہوئی اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کچھ پڑھنے لگے لیکن ہم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے کلام کو نہ سن سکے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کافی دیر تک اسی حالت میں رہے ۔
کچھ عرصہ بعد وہی بوڑھی عورت اپنے جوان بیٹے کے ساتھ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو دعائیں دے رہی تھی اور آپ کا شکر یہ ادا کر رہی تھی ،پھر کہنے لگی :''حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بر کت سے میرے بیٹے کو اللہ عزوجل نے قید سے رہائی عطا فرمادی ہے ۔ اس کا واقعہ بڑا عجیب ہے، یہ خود اپنی رہائی کا واقعہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے بیان کر نا چاہتا ہے۔''یہ سن کر آپ نے فرمایا:'' اے نوجوان! اپنا واقعہ بیان کرو ۔''تو وہ کہنے لگا :
جب مجھے رومیوں نے قید کرلیا تو انہوں نے مجھے چند اور قیدیوں کے ساتھ شامل کر دیا۔ وہ ہم سے بہت زیادہ مشقت والے کام کر واتے ۔ پھر ہم چند قیدیوں کو ایک بڑے شاہی عہدہ دار کے پاس بھیج دیا گیا ۔ اس کی ملکیت میں بہت سارے باغات تھے اور وہ بہت بڑی جاگیر کا مالک تھا ، وہ ہمارے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر سپاہیوں کی نگرانی میں اپنے با غا ت اور کھیتو ں میں کام کرنے کے لئے بھیجتا ۔ہم سارا دن زنجیرو ں میں جکڑے ہوئے جانوروں کی طر ح کام کرتے پھر شام کو واپس ہمیں قیدخانہ میں ڈال دیا جاتا۔ اس طرح ہم ان کی قید میں مشقتیں بر داشت کررہے تھے ۔
ایک دن ایسا ہوا کہ جب شام کو ہمیں واپس قید خانے کی طر ف لایا جارہا تھا تو یکایک میرے پاؤں میں بندھی ہوئی مضبوط بیڑیاں خود بخود ٹو ٹ کر زمین پر آپڑیں، جب سپاہیوں کو خبرہوئی تو وہ میری طر ف دوڑے او رچیختے ہوئے کہنے لگے : ''تُو نے بیڑیاں کیوں توڑ ڈالیں؟ ''میں نے کہا :''بیڑیاں خود بخود ٹوٹ گئیں ہیں ، مَیں نے تو ان کو ہاتھ بھی نہیں لگایا،اگر تمہیں یقین