Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
266 - 410
حکایت نمبر126:              دیانت دار تاجر
    حضرت سیدنا مطفربن سہل المُقرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سیدنا علان الخیاط علیہ رحمۃ اللہ الرّزّاق کے ساتھ بیٹھا ہواتھا ۔ دو ران گفتگو حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی کا ذکر ِخیر شرو ع ہوگیا ،ہم ان کے فضائل ومناقب بیان کرنے لگے۔

     حضرت سیدنا علان الخیاط علیہ رحمۃ اللہ الرزاق نے فرمایا: ''ایک مرتبہ میں حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی خدمتِ بابرکت میں حاضر تھا، اچانک ایک عورت نہایت پریشانی کے عالم میں آئی او رآپ کو مخاطب کر کے کہنے لگی:''اے ابو الحسن( علیہ رحمۃ اللہ الاعظم) !میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پڑو س میں رہتی ہوں ، مجھ پر ایک مصیبت آن پڑی ہے ، رات میرے بیٹے کو سپاہی پکڑکرلے گئے اور مجھے خطرہ ہے کہ وہ اسے تکلیف پہنچا ئیں گے اور اسے سزا دیں گے۔ میں آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)کی بارگاہ میں حاضر ہوئی ہوں۔ اگر آپ میری مدد فرمائیں اور میرے ساتھ چل کر میرے بیٹے کی سفارش کریں یا پھر کسی کو میرے ساتھ بھیج دیں جو آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)کا پیغامِ سفارش حاکم کو پہنچا دیں تو مجھے اُمید ہے کہ حاکم میرے بیٹے کو چھوڑدے گا ۔ خدا را! میرے حال پر رحم فرمائیں ۔''

    حضرت سیدنا علان الخیاط علیہ رحمۃ اللہ الرزاق فرماتے ہیں کہ اس عورت کی یہ فریاد سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کھڑے ہوئے اور نماز میں مشغول ہوگئے اور اِنتہائی خشوع وخضوع سے نماز پڑھنے لگے ۔ جب کافی دیر ہوگئی تو اس عورت نے کہا :''اے ابوالحسن (علیہ رحمۃ اللہ الاعظم )!جلدی کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ حاکم میرے بیٹے کو قید میں ڈال کر سزادے او ر اسے تکلیف پہنچائے ، برائے کرم! میرے معاملے کو جلدی حل فرمادیں ۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نماز میں مشغول رہے ،پھر سلام پھیرنے کے بعد فرمایا:''اے اللہ عزوجل کی بندی !میں تیرے ہی معاملے کو حل کر رہاہوں۔

    ابھی یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ اس عورت کی خادمہ آئی اور اس نے کہا: ''محترمہ! گھر چلئے، آپ کا بیٹا بخیر و عافیت گھر لوٹ آیا ہے۔'' یہ سن کر وہ عورت بہت خوش ہوئی اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو دعائیں دیتی ہوئی وہاں سے رخصت ہوگئی ۔

     حضرت سیدنا علان الخیاط علیہ رحمۃ اللہ الرزاق نے یہ واقعہ سنانے کے بعد ارشاد فرمایا:''اے مطفر! اس سے بھی زیادہ عجیب بات میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بتا تا ہوں۔ حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی تجارت کیا کرتے تھے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ عہد کیا ہوا تھا کہ تین دینار سے زیادہ نفع نہیں لوں گا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے اس عہدپر سختی سے عمل کرتے۔ 

    ایک مرتبہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بازار تشریف لے گئے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے 60دینار کے بدلے96صاع بادام
Flag Counter