اسے اتنی درد ناک سزا کیوں دی؟'' حضرت سیدنا سعد بن ابراہیم علیہ رحمۃ اللہ العظیم نے ارشاد فرمایا:'' اے خلیفہ! تُونے مجھے قاضی بنایا تا کہ میں شریعت کے اَحکام نافذ کروں اوراس کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزا دو ں۔'' چنانچہ جب میں نے دیکھا کہ سرعام اللہ عزوجل کی نافرمانی کی جا رہی ہے۔یہ شخص نشے کی حالت میں اللہ عزوجل کے دربار میں گھوم پھر رہا ہے اور کوئی اسے پوچھنے والا نہیں تو میر ی غیرت ایمانی نے اس بات کو گوارا نہ کیا کہ میں اللہ عزوجل کی نافرمانی ہوتی دیکھوں اورتمہاری قرابت داری کی وجہ سے چشم پوشی کروں اور شرعی حدو د قائم نہ کرو ں۔ میں نے اس شخص کو اس کے جرم کی سزا دی اور دوسری بات یہ کہ اگر میں اسے سزا نہ دیتا تو لوگ تجھ سے بدظن ہوتے کہ خلیفہ اپنے عزیزواَقارب پرحدودقائم نہیں کرتااگر چہ وہ سرِعام جرم کا اِرتکاب کریں اس طرح تمہاری بدنامی ہوتی اور لوگو ں کے دلوں میں تمہاری نفرت بیٹھ جاتی لہٰذا میں نے وہی کیا جو مجھے کرنا چا ہے تھا ۔''جب خلیفہ ولید بن یزید نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے یہ پرُ خلوص کلمات سنے تو بے اختیار پکار اٹھا:'' اے سعد بن ابراہیم ! اللہ عزوجل تجھے اچھی جزاء عطا فرمائے تُونے واقعی وہ کام کیا جو تجھ پر لازم تھا ۔''
پھر خلیفہ ولید بن یزید نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بہت سارا مال دیا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کومدینہ منورہ کی طر ف روانہ کردیا اور اس خیمے کے متعلق کچھ بھی گفتگو نہ کی جسے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آگ لگائی تھی حالانکہ خلیفہ نے اسی مقصد کے لئے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو مدینہ منورہ سے شام بلایا تھا لیکن اب خلیفہ نے اس بات کا معمولی سا بھی تذکرہ نہ کیا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہواپس مدینہ منورہ کی نور بار فضاؤں میں سانس لینے کے لئے جلدی جلدی مدینہ شریف کی طرف چل دیئے۔
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سبحان اللہ عزوجل ! ہمارے اسلاف رحمہم اللہ تعالیٰ کیسے جرا ءت مند ہوا کرتے تھے کہ انہیں اللہ عزوجل کے علاوہ کسی سے بھی خوف نہ آتا۔ وہ اللہ عزوجل کی نافرمانی برداشت ہی نہ کرتے تھے ،چاہے اس کے لئے انہیں کتنے ہی بڑے ظالم سے ٹکر لینی پڑتی، ان کے اندر جذبہ ایمانی کو ٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ وہ صر ف اللہ عزوجل کی رضا چاہتے تھے جب وہ شریعت مُطہرہ کی خلاف ورزی دیکھتے تو ان سے یہ بات برداشت نہ ہوتی اور ہر کوئی اپنے اپنے منصب کے مطابق اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفاور نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر کا فریضہ سرانجام دیتا، انہیں مخلوق کی ناراضگی کا خوف نہ ہوتا ، وہ اپنی نیت میں مخلص ہوتے تھے۔ اور جو شخص اپنی نیت میں مخلص ہو اللہ عزوجل اسے دنیا میں بھی اجر عطا فرماتاہے اور آخرت میں بھی۔ واقعی جو عمل صرف رضائے الٰہی عزوجل کے حصول کی خاطر کیا جائے، اس کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔ اللہ عزوجل ہمیں اپنی دائمی رضا عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)