| عُیونُ الحِکایات (حصہ اول) |
خاطر جو نیک عمل کیا جاتا ہے وہ کبھی رائیگا ں نہیں جاتا ، آخرت میں تو اس کااَجر ملتا ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اس کے ثمرات ظاہر ہوتے ہیں، جس طرح اس عظیم عورت کے ساتھ ہواکہ دنیا ہی میں اس کو نیکی کا بدلہ مل گیا۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہے کہ اپنا ہر عمل اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر کریں۔ جو عمل اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر کیا جاتا ہے وہ کبھی رائیگا ں نہیں جاتا ۔اللہ عزوجل اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ اپنی رحمت سے کسی کو مایوس نہیں کرتا۔ اس حکایت سے یہ بھی درس ملا کہ جوکسی کے ساتھ بھلا کرتا ہے اس کے ساتھ بھی بھلا ہوتا ہے،اس کی بھر پور مدد کی جاتی ہے اور اسے مایوس نہیں کیا جاتا۔ اللہ عزوجل ہمیں بھی اپنے مسلمان بھائیوں پر خوب شفقت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کی تو فیق عطا فرما ئے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)
حکایت نمبر107: دریائے نیل کے نام ایک خط
حضرت سیدنا قیس بن الحجاج علیہما رحمۃ اللہ الوھاب سے مروی ہے: ''جب مصر فتح ہوا تو وہاں کے کچھ لوگ حضرت سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس عجمی مہینوں میں سے کسی مہینے کی تاریخ کوآئے(اس و قت حضرت سیدنا عمر وبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ مصر کے گورنر تھے)،ان لوگو ں نے عرض کی:''اے ہمارے محترم امیر ! ہمارے اس دریائے نیل کی ایک پُرانی رسم ہے جب تک وہ رسم ادا نہ کی جائے اس وقت تک یہ جاری نہیں ہوتا ۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' وہ کون سی رسم ہے جس کے اداکئے بغیر یہ دریا جاری نہیں ہوتا ؟''لوگوں نے عرض کی :''اس ماہ کی بارہ تاریخ ہم کسی نوجوان خوبصورت لڑکی کے والدین کے پاس جاتے ہیں اور انہیں اس بات پر راضی کرتے ہیں کہ وہ اپنی خوبصورت دوشیزہ کو دریائے نیل میں ڈالنے کے لئے ہمارے حوالے کر دیں تا کہ یہ دریا جاری ہو اور ہم سب سیراب ہوسکیں پھر ہم اس نوجوان خوبصورت لڑکی کو عمدہ کپڑے پہنا کر زیورات سے آراستہ کرتے ہیں پھر اسے دریائے نیل میں ڈال دیتے ہیں ۔ اس طر ح ہر سال ہم اپنی ایک جوان لڑکی کی قربانی دیتے ہیں تب دریائے نیل جاری ہوتا ہے۔'' ان لوگوں کی یہ عجیب وغریب بات سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' اِسلام میں ایسی کوئی بے ہودہ رسم جائز نہیں ، بے شک اِسلام نے ایسی تمام باطل رسمیں مٹا دی ہیں ،تم اس مرتبہ اس رسم پر ہرگز عمل نہ کرنا۔''
لوگ آپ کی بات سن کر و اپس چلے گئے اور انہوں نے اس مرتبہ کسی بھی لڑکی کو دریا میں نہ پھینکا ،دریائے نیل خشک رہااور اس مرتبہ اس میں بالکل بھی پانی نہ آیا۔ لوگ بہت پریشان ہوئے او رانہوں نے اِرادہ کرلیا کہ ہم یہ ملک چھوڑ کر کسی اور جگہ چلے جاتے ہیں۔