Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
227 - 410
     چنانچہ وہ ہر وقت اسی فکر میں رہتیں کہ کسی طر ح اس نئی دلہن کو بادشاہ کی نظروں سے گرا دیا جائے لیکن وہ اپنے اس مذموم اِرادے میں کا میاب نہ ہوسکیں۔پھر اچانک بادشاہ کسی محاذ پر روانہ ہوگیا اور وہاں اسے کافی دن دشمنوں سے لڑنا پڑا۔ بادشاہ کی بیویوں کو یہ بہت اچھا موقع مل گیا۔ انہوں نے بادشاہ کو خط لکھا کہ تمہارے پیچھے سے تمہاری نئی دلہن نے تمہاری عزت کو داغ دار کر دیا ہے او روہ بدکارہ ہو گئی ہے اور اس بد کاری کے نتیجہ میں اس کے ہا ں بچہ بھی پیدا ہو اہے۔ جب با دشاہ کو یہ خط ملا تو وہ آگ بگولا ہوگیا۔ اس نے فوراََاپنے قاصد کو یہ پیغام دے کر اپنی والدہ کے پاس بھیجا کہ اس بدکارہ عورت کو اس کے بچے سمیت میرے ملک سے نکال دو، اس کے گلے میں کپڑا با ندھ کر بچہ اس میں ڈال دو اور انہیں کسی جنگل میں چھوڑ دو ۔

    جب اس کی والدہ کو یہ پیغام ملا تو اس نے ایسا ہی کیا او راس کے گلے میں کپڑا ڈال کر بچہ ا س میں ڈال دیا پھر اسے ملک سے دور ایک جنگل میں چھوڑ دیا گیا۔اب وہ بیچاری تنہا جنگل میں رہ گئی لیکن اسے اپنے رب عزوجل سے کسی قسم کا کوئی شکوہ نہ تھا ،وہ تو اس کی رضا پر راضی تھی۔ وہ بیچاری اسی طر ح جنگل میں گھومتی رہی ،پیاس کی شدت نے اسے پریشان کر رکھا تھا با لآ خر اسے دور ایک نہر نظر آئی وہ نہر پر گئی اورجیسے ہی پانی پینے کے لئے جھکی تو اس کا بچہ گہرے پانی میں جاگرا اور ڈوبنے لگا۔ 

    جب عورت نے اپنے بچے کو ڈوبتا دیکھا تو وہ رونے لگی۔اتنے میں اس کے پاس دو خوبصورت نوجوان آئے اوراس سے پوچھا:''تم کیوں رو رہی ہو؟ ''اس نے کہا: ''میں پانی پینے کے لئے جھکی تو میرا بیٹا اس نہر میں گر کر ڈوب گیا ،میں اسی کے غم میں رو رہی ہوں۔ ''ان خوبصورت نوجوانوں نے پوچھا :'' کیا تُو چاہتی ہے کہ ہم تیرے بچے کو نکال لائیں؟'' عورت نے بےتاب ہوکر کہا :'' ہاں! میں چاہتی ہوں کہ اللہ عزوجل مجھے میرا بچہ واپس لوٹا دے۔ ''

     ان نوجوانوں نے دعا کی او راس کا بچہ نکال کر اسے دے دیا۔ پھر انہوں نے پوچھا: ''اے رحم دل عورت !کیا تُو چاہتی ہے کہ تیرے ہا تھ تجھے واپس کر دیئے جائیں اور تُو ٹھیک ہوجائے ؟''اس نے کہا:'' ہاں! میں چاہتی ہوں۔'' چنانچہ ان دونوں نوجوانوں نے دعا کی اور اس کے دونوں ہاتھ بالکل ٹھیک ہوگئے ۔عورت نے اللہ عزوجل کا شکر ادا کیا اور حیران کُن نظروں سے ان نوجوانوں کو دیکھنے لگی جن کی بر کت سے اسے ڈوبا ہوا بچہ بھی مل گیا اور اس کے ہاتھ بھی اسے لوٹا دیئے گئے ۔ پھران نوجوانوں نے پوچھا: ''اے عظیم عورت! کیا تُو جانتی ہے کہ ہم کون ہیں؟ ''عورت نے کہا:''میں آپ کو نہیں پہچانتی۔'' عورت کا یہ جواب سن کر انہوں نے کہا:'' ہم تیری وہی دو روٹیاں ہیں جوتُو نے ایک مجبور سائل کو دی تھیں۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي الله تعالي عليه وسلم)

    ( میٹھے میٹھے اسلامی بھا ئیو!سبحان اللہ عزوجل !اس حکایت میں ہمارے لئے کیسی کیسی نصیحتیں ہیں کہ اللہ عزوجل کی رضا کی